Surah Al-Israa (Bani Israel)
سُورَةُ الإِسۡرَاءِSurah Al-Isra begins with the Prophet's night journey to Jerusalem and ascension to heaven. It provides moral and ethical guidelines and discusses the Children of Israel.
أَوۡ خَلۡقࣰا مِّمَّا یَكۡبُرُ فِی صُدُورِكُمۡۚ فَسَیَقُولُونَ مَن یُعِیدُنَاۖ قُلِ ٱلَّذِی فَطَرَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةࣲۚ فَسَیُنۡغِضُونَ إِلَیۡكَ رُءُوسَهُمۡ وَیَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَۖ قُلۡ عَسَىٰۤ أَن یَكُونَ قَرِیبࣰا
یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو" (پھر بھی تم اٹھ کر رہو گے) وہ ضرور پوچھیں گے "کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا؟" جواب میں کہو "وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا" وہ سر ہلا ہلا کر پوچھیں گے "اچھا، تو یہ ہوگا کب؟" تم کہو "کیا عجب، وہ وقت قریب ہی آ لگا ہو
یَوۡمَ یَدۡعُوكُمۡ فَتَسۡتَجِیبُونَ بِحَمۡدِهِۦ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِیلࣰا
جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آؤ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں"
وَقُل لِّعِبَادِی یَقُولُوا۟ ٱلَّتِی هِیَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ ٱلشَّیۡطَـٰنَ یَنزَغُ بَیۡنَهُمۡۚ إِنَّ ٱلشَّیۡطَـٰنَ كَانَ لِلۡإِنسَـٰنِ عَدُوࣰّا مُّبِینࣰا
اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے
رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِكُمۡۖ إِن یَشَأۡ یَرۡحَمۡكُمۡ أَوۡ إِن یَشَأۡ یُعَذِّبۡكُمۡۚ وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَـٰكَ عَلَیۡهِمۡ وَكِیلࣰا
تمہارا رب تمہارے حال سے زیادہ واقف ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے
وَرَبُّكَ أَعۡلَمُ بِمَن فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَلَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ ٱلنَّبِیِّـۧنَ عَلَىٰ بَعۡضࣲۖ وَءَاتَیۡنَا دَاوُۥدَ زَبُورࣰا
تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے، اور ہم نے ہی داؤدؑ کو زبور دی تھی
قُلِ ٱدۡعُوا۟ ٱلَّذِینَ زَعَمۡتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا یَمۡلِكُونَ كَشۡفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمۡ وَلَا تَحۡوِیلًا
اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ یَدۡعُونَ یَبۡتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلۡوَسِیلَةَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ وَیَرۡجُونَ رَحۡمَتَهُۥ وَیَخَافُونَ عَذَابَهُۥۤۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُورࣰا
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے امیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق
وَإِن مِّن قَرۡیَةٍ إِلَّا نَحۡنُ مُهۡلِكُوهَا قَبۡلَ یَوۡمِ ٱلۡقِیَـٰمَةِ أَوۡ مُعَذِّبُوهَا عَذَابࣰا شَدِیدࣰاۚ كَانَ ذَ ٰلِكَ فِی ٱلۡكِتَـٰبِ مَسۡطُورࣰا
اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں یہ نوشتہ الٰہی میں لکھا ہوا ہے
وَمَا مَنَعَنَاۤ أَن نُّرۡسِلَ بِٱلۡـَٔایَـٰتِ إِلَّاۤ أَن كَذَّبَ بِهَا ٱلۡأَوَّلُونَۚ وَءَاتَیۡنَا ثَمُودَ ٱلنَّاقَةَ مُبۡصِرَةࣰ فَظَلَمُوا۟ بِهَاۚ وَمَا نُرۡسِلُ بِٱلۡـَٔایَـٰتِ إِلَّا تَخۡوِیفࣰا
اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جھٹلا چکے ہیں (چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اس پر ظلم کیا ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں
وَإِذۡ قُلۡنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِٱلنَّاسِۚ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلرُّءۡیَا ٱلَّتِیۤ أَرَیۡنَـٰكَ إِلَّا فِتۡنَةࣰ لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلۡمَلۡعُونَةَ فِی ٱلۡقُرۡءَانِۚ وَنُخَوِّفُهُمۡ فَمَا یَزِیدُهُمۡ إِلَّا طُغۡیَـٰنࣰا كَبِیرࣰا
یاد کرو اے محمدؐ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے اِن لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے، اِس کو اور اُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سر کشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے
وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ ٱسۡجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوۤا۟ إِلَّاۤ إِبۡلِیسَ قَالَ ءَأَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِینࣰا
اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا ا س نے کہا "کیا میں اُس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟"
قَالَ أَرَءَیۡتَكَ هَـٰذَا ٱلَّذِی كَرَّمۡتَ عَلَیَّ لَىِٕنۡ أَخَّرۡتَنِ إِلَىٰ یَوۡمِ ٱلۡقِیَـٰمَةِ لَأَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهُۥۤ إِلَّا قَلِیلࣰا
پھر وہ بولا "دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے"
قَالَ ٱذۡهَبۡ فَمَن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۤؤُكُمۡ جَزَاۤءࣰ مَّوۡفُورࣰا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اچھا تو جا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں، تجھ سمیت اُن سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزا ہے
وَٱسۡتَفۡزِزۡ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُم بِصَوۡتِكَ وَأَجۡلِبۡ عَلَیۡهِم بِخَیۡلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكۡهُمۡ فِی ٱلۡأَمۡوَ ٰلِ وَٱلۡأَوۡلَـٰدِ وَعِدۡهُمۡۚ وَمَا یَعِدُهُمُ ٱلشَّیۡطَـٰنُ إِلَّا غُرُورًا
تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا، اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں
إِنَّ عِبَادِی لَیۡسَ لَكَ عَلَیۡهِمۡ سُلۡطَـٰنࣱۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِیلࣰا
یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا، اور توکل کے لیے تیرا رب کافی ہے"
رَّبُّكُمُ ٱلَّذِی یُزۡجِی لَكُمُ ٱلۡفُلۡكَ فِی ٱلۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوا۟ مِن فَضۡلِهِۦۤۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِكُمۡ رَحِیمࣰا
تمہارا (حقیقی) رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلا ش کرو حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے
وَإِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فِی ٱلۡبَحۡرِ ضَلَّ مَن تَدۡعُونَ إِلَّاۤ إِیَّاهُۖ فَلَمَّا نَجَّىٰكُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ أَعۡرَضۡتُمۡۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَـٰنُ كَفُورًا
جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گم ہو جاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے
أَفَأَمِنتُمۡ أَن یَخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ ٱلۡبَرِّ أَوۡ یُرۡسِلَ عَلَیۡكُمۡ حَاصِبࣰا ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمۡ وَكِیلًا
اچھا، تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاؤ؟
أَمۡ أَمِنتُمۡ أَن یُعِیدَكُمۡ فِیهِ تَارَةً أُخۡرَىٰ فَیُرۡسِلَ عَلَیۡكُمۡ قَاصِفࣰا مِّنَ ٱلرِّیحِ فَیُغۡرِقَكُم بِمَا كَفَرۡتُمۡ ثُمَّ لَا تَجِدُوا۟ لَكُمۡ عَلَیۡنَا بِهِۦ تَبِیعࣰا
اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟
۞ وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِیۤ ءَادَمَ وَحَمَلۡنَـٰهُمۡ فِی ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّیِّبَـٰتِ وَفَضَّلۡنَـٰهُمۡ عَلَىٰ كَثِیرࣲ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیلࣰا
یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی
یَوۡمَ نَدۡعُوا۟ كُلَّ أُنَاسِۭ بِإِمَـٰمِهِمۡۖ فَمَنۡ أُوتِیَ كِتَـٰبَهُۥ بِیَمِینِهِۦ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ یَقۡرَءُونَ كِتَـٰبَهُمۡ وَلَا یُظۡلَمُونَ فَتِیلࣰا
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا
وَمَن كَانَ فِی هَـٰذِهِۦۤ أَعۡمَىٰ فَهُوَ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ أَعۡمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِیلࣰا
اور جو اِس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام
وَإِن كَادُوا۟ لَیَفۡتِنُونَكَ عَنِ ٱلَّذِیۤ أَوۡحَیۡنَاۤ إِلَیۡكَ لِتَفۡتَرِیَ عَلَیۡنَا غَیۡرَهُۥۖ وَإِذࣰا لَّٱتَّخَذُوكَ خَلِیلࣰا
اے محمدؐ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنا لیتے
وَلَوۡلَاۤ أَن ثَبَّتۡنَـٰكَ لَقَدۡ كِدتَّ تَرۡكَنُ إِلَیۡهِمۡ شَیۡـࣰٔا قَلِیلًا
اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے
إِذࣰا لَّأَذَقۡنَـٰكَ ضِعۡفَ ٱلۡحَیَوٰةِ وَضِعۡفَ ٱلۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیۡنَا نَصِیرࣰا
لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے
وَإِن كَادُوا۟ لَیَسۡتَفِزُّونَكَ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ لِیُخۡرِجُوكَ مِنۡهَاۖ وَإِذࣰا لَّا یَلۡبَثُونَ خِلَـٰفَكَ إِلَّا قَلِیلࣰا
اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے
سُنَّةَ مَن قَدۡ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِن رُّسُلِنَاۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِیلًا
یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے
أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمۡسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّیۡلِ وَقُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِۖ إِنَّ قُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُودࣰا
نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے
وَمِنَ ٱلَّیۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةࣰ لَّكَ عَسَىٰۤ أَن یَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامࣰا مَّحۡمُودࣰا
اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے
وَقُل رَّبِّ أَدۡخِلۡنِی مُدۡخَلَ صِدۡقࣲ وَأَخۡرِجۡنِی مُخۡرَجَ صِدۡقࣲ وَٱجۡعَل لِّی مِن لَّدُنكَ سُلۡطَـٰنࣰا نَّصِیرࣰا
اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے
وَقُلۡ جَاۤءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَـٰطِلُۚ إِنَّ ٱلۡبَـٰطِلَ كَانَ زَهُوقࣰا
اور اعلان کر دو کہ "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے"
وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَاۤءࣱ وَرَحۡمَةࣱ لِّلۡمُؤۡمِنِینَ وَلَا یَزِیدُ ٱلظَّـٰلِمِینَ إِلَّا خَسَارࣰا
ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا
وَإِذَاۤ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَـٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ یَـُٔوسࣰا
انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے
قُلۡ كُلࣱّ یَعۡمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ أَهۡدَىٰ سَبِیلࣰا
اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ "ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے"
وَیَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّی وَمَاۤ أُوتِیتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِیلࣰا
یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو "یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے"
وَلَىِٕن شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِٱلَّذِیۤ أَوۡحَیۡنَاۤ إِلَیۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَیۡنَا وَكِیلًا
اور اے محمدؐ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطا کیا ہے، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پاؤ گے جو اسے واپس دلا سکے
إِلَّا رَحۡمَةࣰ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّ فَضۡلَهُۥ كَانَ عَلَیۡكَ كَبِیرࣰا
یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے
قُل لَّىِٕنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰۤ أَن یَأۡتُوا۟ بِمِثۡلِ هَـٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا یَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضࣲ ظَهِیرࣰا
کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں
وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِی هَـٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلࣲ فَأَبَىٰۤ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورࣰا
ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر انکار ہی پر جمے رہے
وَقَالُوا۟ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَرۡضِ یَنۢبُوعًا
اور انہوں نے کہا "ہم تیر ی بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے
أَوۡ تَكُونَ لَكَ جَنَّةࣱ مِّن نَّخِیلࣲ وَعِنَبࣲ فَتُفَجِّرَ ٱلۡأَنۡهَـٰرَ خِلَـٰلَهَا تَفۡجِیرًا
یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے
أَوۡ تُسۡقِطَ ٱلسَّمَاۤءَ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا كِسَفًا أَوۡ تَأۡتِیَ بِٱللَّهِ وَٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ قَبِیلًا
یا تو آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے
أَوۡ یَكُونَ لَكَ بَیۡتࣱ مِّن زُخۡرُفٍ أَوۡ تَرۡقَىٰ فِی ٱلسَّمَاۤءِ وَلَن نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا كِتَـٰبࣰا نَّقۡرَؤُهُۥۗ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّی هَلۡ كُنتُ إِلَّا بَشَرࣰا رَّسُولࣰا
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں" اے محمدؐ، اِن سے کہو "پاک ہے میرا پروردگار! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟"
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن یُؤۡمِنُوۤا۟ إِذۡ جَاۤءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰۤ إِلَّاۤ أَن قَالُوۤا۟ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرࣰا رَّسُولࣰا
لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ "کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟"
قُل لَّوۡ كَانَ فِی ٱلۡأَرۡضِ مَلَـٰۤىِٕكَةࣱ یَمۡشُونَ مُطۡمَىِٕنِّینَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَاۤءِ مَلَكࣰا رَّسُولࣰا
اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے
قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِیدَۢا بَیۡنِی وَبَیۡنَكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِیرَۢا بَصِیرࣰا
اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے
وَمَن یَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن یُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُمۡ أَوۡلِیَاۤءَ مِن دُونِهِۦۖ وَنَحۡشُرُهُمۡ یَوۡمَ ٱلۡقِیَـٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ عُمۡیࣰا وَبُكۡمࣰا وَصُمࣰّاۖ مَّأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنَـٰهُمۡ سَعِیرࣰا
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اسکے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گونگے اور بہرے اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے
ذَ ٰلِكَ جَزَاۤؤُهُم بِأَنَّهُمۡ كَفَرُوا۟ بِـَٔایَـٰتِنَا وَقَالُوۤا۟ أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمࣰا وَرُفَـٰتًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ خَلۡقࣰا جَدِیدًا
یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا "کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟"
۞ أَوَلَمۡ یَرَوۡا۟ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِی خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ قَادِرٌ عَلَىٰۤ أَن یَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ وَجَعَلَ لَهُمۡ أَجَلࣰا لَّا رَیۡبَ فِیهِ فَأَبَى ٱلظَّـٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورࣰا
کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانو ں کو پیدا کیا ہے وہ اِن جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے
قُل لَّوۡ أَنتُمۡ تَمۡلِكُونَ خَزَاۤىِٕنَ رَحۡمَةِ رَبِّیۤ إِذࣰا لَّأَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡیَةَ ٱلۡإِنفَاقِۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَـٰنُ قَتُورࣰا
اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے