17

Surah Al-Israa (Bani Israel)

سُورَةُ الإِسۡرَاءِ
The Night Journey 111 Ayahs Meccan Juz 15

Surah Al-Isra begins with the Prophet's night journey to Jerusalem and ascension to heaven. It provides moral and ethical guidelines and discusses the Children of Israel.

101
وَلَقَدۡ ءَاتَیۡنَا مُوسَىٰ تِسۡعَ ءَایَـٰتِۭ بَیِّنَـٰتࣲۖ فَسۡـَٔلۡ بَنِیۤ إِسۡرَ ٰ⁠ۤءِیلَ إِذۡ جَاۤءَهُمۡ فَقَالَ لَهُۥ فِرۡعَوۡنُ إِنِّی لَأَظُنُّكَ یَـٰمُوسَىٰ مَسۡحُورࣰا
Urdu

ہم نے موسیٰؑ کو تو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نا کہ "اے موسیٰؑ، میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے"

102
قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ أَنزَلَ هَـٰۤؤُلَاۤءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضِ بَصَاۤىِٕرَ وَإِنِّی لَأَظُنُّكَ یَـٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُورࣰا
Urdu

موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا "تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب السماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون، تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے"

103
فَأَرَادَ أَن یَسۡتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ فَأَغۡرَقۡنَـٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِیعࣰا
Urdu

آخرکار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اوراس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کر دیا

104
وَقُلۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ لِبَنِیۤ إِسۡرَ ٰ⁠ۤءِیلَ ٱسۡكُنُوا۟ ٱلۡأَرۡضَ فَإِذَا جَاۤءَ وَعۡدُ ٱلۡـَٔاخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِیفࣰا
Urdu

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے

105
وَبِٱلۡحَقِّ أَنزَلۡنَـٰهُ وَبِٱلۡحَقِّ نَزَلَۗ وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَـٰكَ إِلَّا مُبَشِّرࣰا وَنَذِیرࣰا
Urdu

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کر دو

106
وَقُرۡءَانࣰا فَرَقۡنَـٰهُ لِتَقۡرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكۡثࣲ وَنَزَّلۡنَـٰهُ تَنزِیلࣰا
Urdu

اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے

107
قُلۡ ءَامِنُوا۟ بِهِۦۤ أَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهِۦۤ إِذَا یُتۡلَىٰ عَلَیۡهِمۡ یَخِرُّونَ لِلۡأَذۡقَانِ سُجَّدࣰا
Urdu

اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں

108
وَیَقُولُونَ سُبۡحَـٰنَ رَبِّنَاۤ إِن كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُولࣰا
Urdu

اور پکار اٹھتے ہیں "پاک ہے ہمارا رب، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا"

109
وَیَخِرُّونَ لِلۡأَذۡقَانِ یَبۡكُونَ وَیَزِیدُهُمۡ خُشُوعࣰا ۩
Urdu

اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے

110
قُلِ ٱدۡعُوا۟ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُوا۟ ٱلرَّحۡمَـٰنَۖ أَیࣰّا مَّا تَدۡعُوا۟ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَاۤءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَٱبۡتَغِ بَیۡنَ ذَ ٰ⁠لِكَ سَبِیلࣰا
Urdu

اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو

111
وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِی لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدࣰا وَلَمۡ یَكُن لَّهُۥ شَرِیكࣱ فِی ٱلۡمُلۡكِ وَلَمۡ یَكُن لَّهُۥ وَلِیࣱّ مِّنَ ٱلذُّلِّۖ وَكَبِّرۡهُ تَكۡبِیرَۢا
Urdu

اور کہو "تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو" اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی