Surah An-Naazi’aat
سُورَةُ النَّازِعَاتِSurah An-Nazi'at describes angels who extract souls and the events of resurrection. It includes a brief account of Musa and Pharaoh.
وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا ۟ۙ
By those [angels] who extract with violence
قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں
وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا ۟ۙ
And [by] those who remove with ease
اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں
وَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا ۟ۙ
And [by] those who glide [as if] swimming
اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں
فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا ۟ۙ
And those who race each other in a race
پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ۟ۘ
And those who arrange [each] matter,
پھر (احکام الٰہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں
یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ۟ۙ
On the Day the blast [of the Horn] will convulse [creation],
جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا
تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۟ؕ
There will follow it the subsequent [one].
اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا
قُلُوْبٌ یَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ ۟ۙ
Hearts, that Day, will tremble,
کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے
اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ ۟ۘ
Their eyes humbled.
نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی
یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِ ۟ؕ
They are [presently] saying, "Will we indeed be returned to [our] former state [of life]?
یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟
ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ۟ؕ
Even if we should be decayed bones?
کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"
قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۟ۘ
They say, "That, then, would be a losing return."
کہنے لگے "یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!"
فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۟ۙ
Indeed, it will be but one shout,
حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی
فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ ۟ؕ
And suddenly they will be [alert] upon the earth's surface.
اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ۟ۘ
Has there reached you the story of Moses? -
کیا تمہیں موسیٰؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟
اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ۟ۚ
When his Lord called to him in the sacred valley of Tuwa,
جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا
اِذْهَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰی ۟ؗۖ
"Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed.
کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے
فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤی اَنْ تَزَكّٰی ۟ۙ
And say to him, 'Would you [be willing to] purify yourself
اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے
وَاَهْدِیَكَ اِلٰی رَبِّكَ فَتَخْشٰی ۟ۚ
And let me guide you to your Lord so you would fear [Him]?'"
اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"
فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰی ۟ؗۖ
And he showed him the greatest sign,
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی
فَكَذَّبَ وَعَصٰی ۟ؗۖ
But Pharaoh denied and disobeyed.
مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا
ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی ۟ؗۖ
Then he turned his back, striving.
پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا
فَحَشَرَ فَنَادٰی ۟ؗۖ
And he gathered [his people] and called out
اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا
فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی ۟ؗۖ
And said, "I am your most exalted lord."
"میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں"
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰی ۟ؕ
So Allah seized him in exemplary punishment for the last and the first [transgression].
آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰی ۟ؕ۠
Indeed in that is a warning for whoever would fear [Allah].
درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰىهَا ۟ۙ
Are you a more difficult creation or is the heaven? Allah constructed it.
کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا ۟ۙ
He raised its ceiling and proportioned it.
اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا
وَاَغْطَشَ لَیْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا ۪۟
And He darkened its night and extracted its brightness.
اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا
وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا ۟ؕ
And after that He spread the earth.
اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا
اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعٰىهَا ۪۟
He extracted from it its water and its pasture,
اُس کے اندر سے اُس کا پانی اور چارہ نکالا
وَالْجِبَالَ اَرْسٰىهَا ۟ۙ
And the mountains He set firmly
اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے
مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ۟ؕ
As provision for you and your grazing livestock.
سامان زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰی ۟ؗۖ
But when there comes the greatest Overwhelming Calamity -
پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا
یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی ۟ۙ
The Day when man will remember that for which he strove,
جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا
وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰی ۟
And Hellfire will be exposed for [all] those who see -
اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی
فَاَمَّا مَنْ طَغٰی ۟ۙ
So as for he who transgressed
تو جس نے سرکشی کی تھی
وَاٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا ۟ۙ
And preferred the life of the world,
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی
فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰی ۟ؕ
Then indeed, Hellfire will be [his] refuge.
دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی ۟ۙ
But as for he who feared the position of his Lord and prevented the soul from [unlawful] inclination,
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا
فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰی ۟ؕ
Then indeed, Paradise will be [his] refuge.
جنت اس کا ٹھکانا ہوگی
یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا ۟ؕ
They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival?
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ "آخر وہ گھڑی کب آ کر ٹھیرے گی؟"
فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا ۟ؕ
In what [position] are you that you should mention it?
تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ
اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا ۟ؕ
To your Lord is its finality.
اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے
اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَا ۟ؕ
You are only a warner for those who fear it.
تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے
كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا ۟۠
It will be, on the Day they see it, as though they had not remained [in the world] except for an afternoon or a morning thereof.
جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (یہ دنیا میں یا حالت موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں