Surah An-Nisaa
سُورَةُ النِّسَاءِSurah An-Nisa addresses social reforms, particularly regarding the rights and treatment of women, orphans, and family matters. It establishes laws of inheritance and marriage.
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِی خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسࣲ وَ ٰحِدَةࣲ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالࣰا كَثِیرࣰا وَنِسَاۤءࣰۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِی تَسَاۤءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَیۡكُمۡ رَقِیبࣰا
لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے
وَءَاتُوا۟ ٱلۡیَتَـٰمَىٰۤ أَمۡوَ ٰلَهُمۡۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا۟ ٱلۡخَبِیثَ بِٱلطَّیِّبِۖ وَلَا تَأۡكُلُوۤا۟ أَمۡوَ ٰلَهُمۡ إِلَىٰۤ أَمۡوَ ٰلِكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبࣰا كَبِیرࣰا
یتیموں کے مال اُن کو واپس دو، اچھے مال کو برے مال سے نہ بدل لو، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُوا۟ فِی ٱلۡیَتَـٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَاۤءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُبَـٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُوا۟ فَوَ ٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَیۡمَـٰنُكُمۡۚ ذَ ٰلِكَ أَدۡنَىٰۤ أَلَّا تَعُولُوا۟
اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے
وَءَاتُوا۟ ٱلنِّسَاۤءَ صَدُقَـٰتِهِنَّ نِحۡلَةࣰۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَیۡءࣲ مِّنۡهُ نَفۡسࣰا فَكُلُوهُ هَنِیۤـࣰٔا مَّرِیۤـࣰٔا
اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے) ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو
وَلَا تُؤۡتُوا۟ ٱلسُّفَهَاۤءَ أَمۡوَ ٰلَكُمُ ٱلَّتِی جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِیَـٰمࣰا وَٱرۡزُقُوهُمۡ فِیهَا وَٱكۡسُوهُمۡ وَقُولُوا۟ لَهُمۡ قَوۡلࣰا مَّعۡرُوفࣰا
اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو
وَٱبۡتَلُوا۟ ٱلۡیَتَـٰمَىٰ حَتَّىٰۤ إِذَا بَلَغُوا۟ ٱلنِّكَاحَ فَإِنۡ ءَانَسۡتُم مِّنۡهُمۡ رُشۡدࣰا فَٱدۡفَعُوۤا۟ إِلَیۡهِمۡ أَمۡوَ ٰلَهُمۡۖ وَلَا تَأۡكُلُوهَاۤ إِسۡرَافࣰا وَبِدَارًا أَن یَكۡبَرُوا۟ۚ وَمَن كَانَ غَنِیࣰّا فَلۡیَسۡتَعۡفِفۡۖ وَمَن كَانَ فَقِیرࣰا فَلۡیَأۡكُلۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِذَا دَفَعۡتُمۡ إِلَیۡهِمۡ أَمۡوَ ٰلَهُمۡ فَأَشۡهِدُوا۟ عَلَیۡهِمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِیبࣰا
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کر دو ایسا کبھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے یتیم کا جو سرپرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنا لو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
لِّلرِّجَالِ نَصِیبࣱ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَ ٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ وَلِلنِّسَاۤءِ نَصِیبࣱ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَ ٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ أَوۡ كَثُرَۚ نَصِیبࣰا مَّفۡرُوضࣰا
مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے
وَإِذَا حَضَرَ ٱلۡقِسۡمَةَ أُو۟لُوا۟ ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡیَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِینُ فَٱرۡزُقُوهُم مِّنۡهُ وَقُولُوا۟ لَهُمۡ قَوۡلࣰا مَّعۡرُوفࣰا
اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو
وَلۡیَخۡشَ ٱلَّذِینَ لَوۡ تَرَكُوا۟ مِنۡ خَلۡفِهِمۡ ذُرِّیَّةࣰ ضِعَـٰفًا خَافُوا۟ عَلَیۡهِمۡ فَلۡیَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلۡیَقُولُوا۟ قَوۡلࣰا سَدِیدًا
لوگوں کو اس بات کا خیال کر کے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں
إِنَّ ٱلَّذِینَ یَأۡكُلُونَ أَمۡوَ ٰلَ ٱلۡیَتَـٰمَىٰ ظُلۡمًا إِنَّمَا یَأۡكُلُونَ فِی بُطُونِهِمۡ نَارࣰاۖ وَسَیَصۡلَوۡنَ سَعِیرࣰا
جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں در حقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے
یُوصِیكُمُ ٱللَّهُ فِیۤ أَوۡلَـٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَیَیۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَاۤءࣰ فَوۡقَ ٱثۡنَتَیۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَ ٰحِدَةࣰ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ وَلِأَبَوَیۡهِ لِكُلِّ وَ ٰحِدࣲ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدࣱۚ فَإِن لَّمۡ یَكُن لَّهُۥ وَلَدࣱ وَوَرِثَهُۥۤ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُۚ فَإِن كَانَ لَهُۥۤ إِخۡوَةࣱ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِیَّةࣲ یُوصِی بِهَاۤ أَوۡ دَیۡنٍۗ ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَیُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعࣰاۚ فَرِیضَةࣰ مِّنَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا
تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے، اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے اگر میت صاحب اولاد ہو تواس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہو ں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں) جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے
۞ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَ ٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ یَكُن لَّهُنَّ وَلَدࣱۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدࣱ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِیَّةࣲ یُوصِینَ بِهَاۤ أَوۡ دَیۡنࣲۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ یَكُن لَّكُمۡ وَلَدࣱۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدࣱ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِیَّةࣲ تُوصُونَ بِهَاۤ أَوۡ دَیۡنࣲۗ وَإِن كَانَ رَجُلࣱ یُورَثُ كَلَـٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةࣱ وَلَهُۥۤ أَخٌ أَوۡ أُخۡتࣱ فَلِكُلِّ وَ ٰحِدࣲ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوۤا۟ أَكۡثَرَ مِن ذَ ٰلِكَ فَهُمۡ شُرَكَاۤءُ فِی ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِیَّةࣲ یُوصَىٰ بِهَاۤ أَوۡ دَیۡنٍ غَیۡرَ مُضَاۤرࣲّۚ وَصِیَّةࣰ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِیمٌ حَلِیمࣱ
اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں ں نے کی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں اُن کا حصہ آٹھواں ہوگا، بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہے) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشر طیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے
تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن یُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ یُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتࣲ تَجۡرِی مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۚ وَذَ ٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِیمُ
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے
وَمَن یَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَیَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ یُدۡخِلۡهُ نَارًا خَـٰلِدࣰا فِیهَا وَلَهُۥ عَذَابࣱ مُّهِینࣱ
اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے
وَٱلَّـٰتِی یَأۡتِینَ ٱلۡفَـٰحِشَةَ مِن نِّسَاۤىِٕكُمۡ فَٱسۡتَشۡهِدُوا۟ عَلَیۡهِنَّ أَرۡبَعَةࣰ مِّنكُمۡۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَأَمۡسِكُوهُنَّ فِی ٱلۡبُیُوتِ حَتَّىٰ یَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلۡمَوۡتُ أَوۡ یَجۡعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِیلࣰا
تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے
وَٱلَّذَانِ یَأۡتِیَـٰنِهَا مِنكُمۡ فَـَٔاذُوهُمَاۖ فَإِن تَابَا وَأَصۡلَحَا فَأَعۡرِضُوا۟ عَنۡهُمَاۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابࣰا رَّحِیمًا
اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِینَ یَعۡمَلُونَ ٱلسُّوۤءَ بِجَهَـٰلَةࣲ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیبࣲ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ یَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَیۡهِمۡۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِیمًا حَكِیمࣰا
ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق اُنہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہو جاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے
وَلَیۡسَتِ ٱلتَّوۡبَةُ لِلَّذِینَ یَعۡمَلُونَ ٱلسَّیِّـَٔاتِ حَتَّىٰۤ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ إِنِّی تُبۡتُ ٱلۡـَٔـٰنَ وَلَا ٱلَّذِینَ یَمُوتُونَ وَهُمۡ كُفَّارٌۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا أَلِیمࣰا
مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی، اور اسی طرح توبہ اُن کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں ا یسے لوگوں کے لیے تو ہم نے درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا یَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَرِثُوا۟ ٱلنِّسَاۤءَ كَرۡهࣰاۖ وَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ لِتَذۡهَبُوا۟ بِبَعۡضِ مَاۤ ءَاتَیۡتُمُوهُنَّ إِلَّاۤ أَن یَأۡتِینَ بِفَـٰحِشَةࣲ مُّبَیِّنَةࣲۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰۤ أَن تَكۡرَهُوا۟ شَیۡـࣰٔا وَیَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِیهِ خَیۡرࣰا كَثِیرࣰا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہو ں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو
وَإِنۡ أَرَدتُّمُ ٱسۡتِبۡدَالَ زَوۡجࣲ مَّكَانَ زَوۡجࣲ وَءَاتَیۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارࣰا فَلَا تَأۡخُذُوا۟ مِنۡهُ شَیۡـًٔاۚ أَتَأۡخُذُونَهُۥ بُهۡتَـٰنࣰا وَإِثۡمࣰا مُّبِینࣰا
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے؟
وَكَیۡفَ تَأۡخُذُونَهُۥ وَقَدۡ أَفۡضَىٰ بَعۡضُكُمۡ إِلَىٰ بَعۡضࣲ وَأَخَذۡنَ مِنكُم مِّیثَـٰقًا غَلِیظࣰا
اور آخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندو ز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟
وَلَا تَنكِحُوا۟ مَا نَكَحَ ءَابَاۤؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَاۤءِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةࣰ وَمَقۡتࣰا وَسَاۤءَ سَبِیلًا
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے
حُرِّمَتۡ عَلَیۡكُمۡ أُمَّهَـٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَ ٰتُكُمۡ وَعَمَّـٰتُكُمۡ وَخَـٰلَـٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَـٰتُكُمُ ٱلَّـٰتِیۤ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَ ٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَـٰعَةِ وَأُمَّهَـٰتُ نِسَاۤىِٕكُمۡ وَرَبَـٰۤىِٕبُكُمُ ٱلَّـٰتِی فِی حُجُورِكُم مِّن نِّسَاۤىِٕكُمُ ٱلَّـٰتِی دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُوا۟ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡكُمۡ وَحَلَـٰۤىِٕلُ أَبۡنَاۤىِٕكُمُ ٱلَّذِینَ مِنۡ أَصۡلَـٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُوا۟ بَیۡنَ ٱلۡأُخۡتَیۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورࣰا رَّحِیمࣰا
تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہو چکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو (ا نہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
۞ وَٱلۡمُحۡصَنَـٰتُ مِنَ ٱلنِّسَاۤءِ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ أَیۡمَـٰنُكُمۡۖ كِتَـٰبَ ٱللَّهِ عَلَیۡكُمۡۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاۤءَ ذَ ٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُوا۟ بِأَمۡوَ ٰلِكُم مُّحۡصِنِینَ غَیۡرَ مُسَـٰفِحِینَۚ فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِیضَةࣰۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡكُمۡ فِیمَا تَرَ ٰضَیۡتُم بِهِۦ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡفَرِیضَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا حَكِیمࣰا
اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (محصنات) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے اِن کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، بشر طیکہ حصار نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض ادا کرو، البتہ مہر کی قرارداد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے
وَمَن لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ مِنكُمۡ طَوۡلًا أَن یَنكِحَ ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتۡ أَیۡمَـٰنُكُم مِّن فَتَیَـٰتِكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِیمَـٰنِكُمۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضࣲۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذۡنِ أَهۡلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ مُحۡصَنَـٰتٍ غَیۡرَ مُسَـٰفِحَـٰتࣲ وَلَا مُتَّخِذَ ٰتِ أَخۡدَانࣲۚ فَإِذَاۤ أُحۡصِنَّ فَإِنۡ أَتَیۡنَ بِفَـٰحِشَةࣲ فَعَلَیۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِۚ ذَ ٰلِكَ لِمَنۡ خَشِیَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُوا۟ خَیۡرࣱ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ
اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کر لے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کر دو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اُس سز ا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات) کے لیے مقرر ہے یہ سہولت تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
یُرِیدُ ٱللَّهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمۡ وَیَهۡدِیَكُمۡ سُنَنَ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَیَتُوبَ عَلَیۡكُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِیمٌ حَكِیمࣱ
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحا٫ کرتے تھے وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی
وَٱللَّهُ یُرِیدُ أَن یَتُوبَ عَلَیۡكُمۡ وَیُرِیدُ ٱلَّذِینَ یَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَ ٰتِ أَن تَمِیلُوا۟ مَیۡلًا عَظِیمࣰا
ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ
یُرِیدُ ٱللَّهُ أَن یُخَفِّفَ عَنكُمۡۚ وَخُلِقَ ٱلۡإِنسَـٰنُ ضَعِیفࣰا
اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأۡكُلُوۤا۟ أَمۡوَ ٰلَكُم بَیۡنَكُم بِٱلۡبَـٰطِلِ إِلَّاۤ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً عَن تَرَاضࣲ مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوۤا۟ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِیمࣰا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے
وَمَن یَفۡعَلۡ ذَ ٰلِكَ عُدۡوَ ٰنࣰا وَظُلۡمࣰا فَسَوۡفَ نُصۡلِیهِ نَارࣰاۚ وَكَانَ ذَ ٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ یَسِیرًا
جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے
إِن تَجۡتَنِبُوا۟ كَبَاۤىِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَیِّـَٔاتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُم مُّدۡخَلࣰا كَرِیمࣰا
اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے
وَلَا تَتَمَنَّوۡا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضࣲۚ لِّلرِّجَالِ نَصِیبࣱ مِّمَّا ٱكۡتَسَبُوا۟ۖ وَلِلنِّسَاۤءِ نَصِیبࣱ مِّمَّا ٱكۡتَسَبۡنَۚ وَسۡـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضۡلِهِۦۤۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَیۡءٍ عَلِیمࣰا
اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
وَلِكُلࣲّ جَعَلۡنَا مَوَ ٰلِیَ مِمَّا تَرَكَ ٱلۡوَ ٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَۚ وَٱلَّذِینَ عَقَدَتۡ أَیۡمَـٰنُكُمۡ فَـَٔاتُوهُمۡ نَصِیبَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ شَهِیدًا
اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے
ٱلرِّجَالُ قَوَّ ٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَاۤءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضࣲ وَبِمَاۤ أَنفَقُوا۟ مِنۡ أَمۡوَ ٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّـٰلِحَـٰتُ قَـٰنِتَـٰتٌ حَـٰفِظَـٰتࣱ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّـٰتِی تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِی ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوا۟ عَلَیۡهِنَّ سَبِیلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیࣰّا كَبِیرࣰا
مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُوا۟ حَكَمࣰا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمࣰا مِّنۡ أَهۡلِهَاۤ إِن یُرِیدَاۤ إِصۡلَـٰحࣰا یُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَیۡنَهُمَاۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا خَبِیرࣰا
اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے
۞ وَٱعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُوا۟ بِهِۦ شَیۡـࣰٔاۖ وَبِٱلۡوَ ٰلِدَیۡنِ إِحۡسَـٰنࣰا وَبِذِی ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡیَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِینِ وَٱلۡجَارِ ذِی ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡجَارِ ٱلۡجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلۡجَنۢبِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِیلِ وَمَا مَلَكَتۡ أَیۡمَـٰنُكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یُحِبُّ مَن كَانَ مُخۡتَالࣰا فَخُورًا
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے
ٱلَّذِینَ یَبۡخَلُونَ وَیَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِ وَیَكۡتُمُونَ مَاۤ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَـٰفِرِینَ عَذَابࣰا مُّهِینࣰا
اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ایسے کافر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے
وَٱلَّذِینَ یُنفِقُونَ أَمۡوَ ٰلَهُمۡ رِئَاۤءَ ٱلنَّاسِ وَلَا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِۗ وَمَن یَكُنِ ٱلشَّیۡطَـٰنُ لَهُۥ قَرِینࣰا فَسَاۤءَ قَرِینࣰا
اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کیلیے خرچ کرتے ہیں اور در حقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اُسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی
وَمَاذَا عَلَیۡهِمۡ لَوۡ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمۡ عَلِیمًا
آخر اِن لوگوں پر کیا آفت آ جاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا
إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةࣲۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةࣰ یُضَـٰعِفۡهَا وَیُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِیمࣰا
اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اُسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے
فَكَیۡفَ إِذَا جِئۡنَا مِن كُلِّ أُمَّةِۭ بِشَهِیدࣲ وَجِئۡنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰۤؤُلَاۤءِ شَهِیدࣰا
پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اِن لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد ﷺ کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے
یَوۡمَىِٕذࣲ یَوَدُّ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ وَعَصَوُا۟ ٱلرَّسُولَ لَوۡ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضُ وَلَا یَكۡتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِیثࣰا
اُس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسولؐ کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقۡرَبُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَـٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُوا۟ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِی سَبِیلٍ حَتَّىٰ تَغۡتَسِلُوا۟ۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰۤ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَاۤءَ أَحَدࣱ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَاۤىِٕطِ أَوۡ لَـٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَاۤءَ فَلَمۡ تَجِدُوا۟ مَاۤءࣰ فَتَیَمَّمُوا۟ صَعِیدࣰا طَیِّبࣰا فَٱمۡسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَیۡدِیكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے، جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک کہ غسل نہ کر لو، الا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے، یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ نَصِیبࣰا مِّنَ ٱلۡكِتَـٰبِ یَشۡتَرُونَ ٱلضَّلَـٰلَةَ وَیُرِیدُونَ أَن تَضِلُّوا۟ ٱلسَّبِیلَ
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو
وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِأَعۡدَاۤىِٕكُمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِیࣰّا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِیرࣰا
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت و مدد گاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے
مِّنَ ٱلَّذِینَ هَادُوا۟ یُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَیَقُولُونَ سَمِعۡنَا وَعَصَیۡنَا وَٱسۡمَعۡ غَیۡرَ مُسۡمَعࣲ وَرَ ٰعِنَا لَیَّۢا بِأَلۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنࣰا فِی ٱلدِّینِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ قَالُوا۟ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَا وَٱسۡمَعۡ وَٱنظُرۡنَا لَكَانَ خَیۡرࣰا لَّهُمۡ وَأَقۡوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُونَ إِلَّا قَلِیلࣰا
جو لوگ یہودی بن گئے ہیں اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعنَا وَ عَصَینَا اور اِسمَع غَیر مُسمَع اور رَاعِنَا حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعنَا وَ اَطَعنَا، اور اِسمَع اور اُنظُرنَا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡكِتَـٰبَ ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقࣰا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبۡلِ أَن نَّطۡمِسَ وُجُوهࣰا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰۤ أَدۡبَارِهَاۤ أَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّاۤ أَصۡحَـٰبَ ٱلسَّبۡتِۚ وَكَانَ أَمۡرُ ٱللَّهِ مَفۡعُولًا
اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی! مان لو اُس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہر ے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کر دیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا، اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے
إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَغۡفِرُ أَن یُشۡرَكَ بِهِۦ وَیَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَ ٰلِكَ لِمَن یَشَاۤءُۚ وَمَن یُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰۤ إِثۡمًا عَظِیمًا
اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِینَ یُزَكُّونَ أَنفُسَهُمۚ بَلِ ٱللَّهُ یُزَكِّی مَن یَشَاۤءُ وَلَا یُظۡلَمُونَ فَتِیلًا
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو بہت اپنی پاکیز گی نفس کا دم بھرتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو در حقیقت) ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا
ٱنظُرۡ كَیۡفَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۖ وَكَفَىٰ بِهِۦۤ إِثۡمࣰا مُّبِینًا
دیکھو تو سہی، یہ اللہ پر بھی جھوٹے افترا گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحاً گناہ گا ر ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے