Surah An-Nisaa
سُورَةُ النِّسَاءِSurah An-Nisa addresses social reforms, particularly regarding the rights and treatment of women, orphans, and family matters. It establishes laws of inheritance and marriage.
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ نَصِیبࣰا مِّنَ ٱلۡكِتَـٰبِ یُؤۡمِنُونَ بِٱلۡجِبۡتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَیَقُولُونَ لِلَّذِینَ كَفَرُوا۟ هَـٰۤؤُلَاۤءِ أَهۡدَىٰ مِنَ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ سَبِیلًا
کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَمَن یَلۡعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِیرًا
ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اُس کا کوئی مدد گار نہیں پاؤ گے
أَمۡ لَهُمۡ نَصِیبࣱ مِّنَ ٱلۡمُلۡكِ فَإِذࣰا لَّا یُؤۡتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِیرًا
کیا حکومت میں اُن کا کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے
أَمۡ یَحۡسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَاۤ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۖ فَقَدۡ ءَاتَیۡنَاۤ ءَالَ إِبۡرَ ٰهِیمَ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَءَاتَیۡنَـٰهُم مُّلۡكًا عَظِیمࣰا
پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیمؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا
فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن صَدَّ عَنۡهُۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِیرًا
مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا، اور منہ موڑ نے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
إِنَّ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ بِـَٔایَـٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیهِمۡ نَارࣰا كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم بَدَّلۡنَـٰهُمۡ جُلُودًا غَیۡرَهَا لِیَذُوقُوا۟ ٱلۡعَذَابَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِیزًا حَكِیمࣰا
جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں، اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے
وَٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتࣲ تَجۡرِی مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَـٰرُ خَـٰلِدِینَ فِیهَاۤ أَبَدࣰاۖ لَّهُمۡ فِیهَاۤ أَزۡوَ ٰجࣱ مُّطَهَّرَةࣱۖ وَنُدۡخِلُهُمۡ ظِلࣰّا ظَلِیلًا
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے
۞ إِنَّ ٱللَّهَ یَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلۡأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰۤ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَیۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُوا۟ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا یَعِظُكُم بِهِۦۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِیعَۢا بَصِیرࣰا
مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِیعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِی ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَـٰزَعۡتُمۡ فِی شَیۡءࣲ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِۚ ذَ ٰلِكَ خَیۡرࣱ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِیلًا
اے لوگو جو ایمان لائے ہوئے، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِینَ یَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُوا۟ بِمَاۤ أُنزِلَ إِلَیۡكَ وَمَاۤ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ یُرِیدُونَ أَن یَتَحَاكَمُوۤا۟ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوۤا۟ أَن یَكۡفُرُوا۟ بِهِۦۖ وَیُرِیدُ ٱلشَّیۡطَـٰنُ أَن یُضِلَّهُمۡ ضَلَـٰلَۢا بَعِیدࣰا
اے نبیؐ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے
وَإِذَا قِیلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا۟ إِلَىٰ مَاۤ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَیۡتَ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ یَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودࣰا
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں
فَكَیۡفَ إِذَاۤ أَصَـٰبَتۡهُم مُّصِیبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَیۡدِیهِمۡ ثُمَّ جَاۤءُوكَ یَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَاۤ إِلَّاۤ إِحۡسَـٰنࣰا وَتَوۡفِیقًا
پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہو جائے
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ یَعۡلَمُ ٱللَّهُ مَا فِی قُلُوبِهِمۡ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِیۤ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِیغࣰا
اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، ان سے تعرض مت کرو، انہیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اتر جائے
وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِیُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوۤا۟ أَنفُسَهُمۡ جَاۤءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُوا۟ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُوا۟ ٱللَّهَ تَوَّابࣰا رَّحِیمࣰا
(انہیں بتاؤ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اس لیے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے
فَلَا وَرَبِّكَ لَا یُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ یُحَكِّمُوكَ فِیمَا شَجَرَ بَیۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوا۟ فِیۤ أَنفُسِهِمۡ حَرَجࣰا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوا۟ تَسۡلِیمࣰا
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں
وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَیۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوۤا۟ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُوا۟ مِن دِیَـٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِیلࣱ مِّنۡهُمۡۖ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُوا۟ مَا یُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَیۡرࣰا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِیتࣰا
اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے، اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا
وَإِذࣰا لَّـَٔاتَیۡنَـٰهُم مِّن لَّدُنَّاۤ أَجۡرًا عَظِیمࣰا
اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے
وَلَهَدَیۡنَـٰهُمۡ صِرَ ٰطࣰا مُّسۡتَقِیمࣰا
اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے
وَمَن یُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ مَعَ ٱلَّذِینَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَیۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِیِّـۧنَ وَٱلصِّدِّیقِینَ وَٱلشُّهَدَاۤءِ وَٱلصَّـٰلِحِینَۚ وَحَسُنَ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ رَفِیقࣰا
جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا٫ اور صدیقین اور شہدا٫ اور صالحین کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں
ذَ ٰلِكَ ٱلۡفَضۡلُ مِنَ ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِیمࣰا
یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ خُذُوا۟ حِذۡرَكُمۡ فَٱنفِرُوا۟ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُوا۟ جَمِیعࣰا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر
وَإِنَّ مِنكُمۡ لَمَن لَّیُبَطِّئَنَّ فَإِنۡ أَصَـٰبَتۡكُم مُّصِیبَةࣱ قَالَ قَدۡ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَیَّ إِذۡ لَمۡ أَكُن مَّعَهُمۡ شَهِیدࣰا
ہاں، تم میں کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے، ا گر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں اِن لوگوں کے ساتھ نہ گیا
وَلَىِٕنۡ أَصَـٰبَكُمۡ فَضۡلࣱ مِّنَ ٱللَّهِ لَیَقُولَنَّ كَأَن لَّمۡ تَكُنۢ بَیۡنَكُمۡ وَبَیۡنَهُۥ مَوَدَّةࣱ یَـٰلَیۡتَنِی كُنتُ مَعَهُمۡ فَأَفُوزَ فَوۡزًا عَظِیمࣰا
اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا
۞ فَلۡیُقَـٰتِلۡ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِینَ یَشۡرُونَ ٱلۡحَیَوٰةَ ٱلدُّنۡیَا بِٱلۡـَٔاخِرَةِۚ وَمَن یُقَـٰتِلۡ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ فَیُقۡتَلۡ أَوۡ یَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِیهِ أَجۡرًا عَظِیمࣰا
(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کر دیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے
وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَـٰتِلُونَ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِینَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَاۤءِ وَٱلۡوِلۡدَ ٰنِ ٱلَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَاۤ أَخۡرِجۡنَا مِنۡ هَـٰذِهِ ٱلۡقَرۡیَةِ ٱلظَّالِمِ أَهۡلُهَا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِیࣰّا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِیرًا
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے
ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ یُقَـٰتِلُونَ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ یُقَـٰتِلُونَ فِی سَبِیلِ ٱلطَّـٰغُوتِ فَقَـٰتِلُوۤا۟ أَوۡلِیَاۤءَ ٱلشَّیۡطَـٰنِۖ إِنَّ كَیۡدَ ٱلشَّیۡطَـٰنِ كَانَ ضَعِیفًا
جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، و ہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِینَ قِیلَ لَهُمۡ كُفُّوۤا۟ أَیۡدِیَكُمۡ وَأَقِیمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ إِذَا فَرِیقࣱ مِّنۡهُمۡ یَخۡشَوۡنَ ٱلنَّاسَ كَخَشۡیَةِ ٱللَّهِ أَوۡ أَشَدَّ خَشۡیَةࣰۚ وَقَالُوا۟ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَیۡنَا ٱلۡقِتَالَ لَوۡلَاۤ أَخَّرۡتَنَاۤ إِلَىٰۤ أَجَلࣲ قَرِیبࣲۗ قُلۡ مَتَـٰعُ ٱلدُّنۡیَا قَلِیلࣱ وَٱلۡـَٔاخِرَةُ خَیۡرࣱ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظۡلَمُونَ فَتِیلًا
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا
أَیۡنَمَا تَكُونُوا۟ یُدۡرِككُّمُ ٱلۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنتُمۡ فِی بُرُوجࣲ مُّشَیَّدَةࣲۗ وَإِن تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةࣱ یَقُولُوا۟ هَـٰذِهِۦ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَیِّئَةࣱ یَقُولُوا۟ هَـٰذِهِۦ مِنۡ عِندِكَۚ قُلۡ كُلࣱّ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ فَمَالِ هَـٰۤؤُلَاۤءِ ٱلۡقَوۡمِ لَا یَكَادُونَ یَفۡقَهُونَ حَدِیثࣰا
رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ تمہاری بدولت ہے کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی
مَّاۤ أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةࣲ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَاۤ أَصَابَكَ مِن سَیِّئَةࣲ فَمِن نَّفۡسِكَۚ وَأَرۡسَلۡنَـٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولࣰاۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِیدࣰا
اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے اے محمدؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اوراس پر خدا کی گواہی کافی ہے
مَّن یُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَاۤ أَرۡسَلۡنَـٰكَ عَلَیۡهِمۡ حَفِیظࣰا
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے
وَیَقُولُونَ طَاعَةࣱ فَإِذَا بَرَزُوا۟ مِنۡ عِندِكَ بَیَّتَ طَاۤىِٕفَةࣱ مِّنۡهُمۡ غَیۡرَ ٱلَّذِی تَقُولُۖ وَٱللَّهُ یَكۡتُبُ مَا یُبَیِّتُونَۖ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِیلًا
وہ منہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے تم ان کی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے
أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَیۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِیهِ ٱخۡتِلَـٰفࣰا كَثِیرࣰا
کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اِس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی
وَإِذَا جَاۤءَهُمۡ أَمۡرࣱ مِّنَ ٱلۡأَمۡنِ أَوِ ٱلۡخَوۡفِ أَذَاعُوا۟ بِهِۦۖ وَلَوۡ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰۤ أُو۟لِی ٱلۡأَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِینَ یَسۡتَنۢبِطُونَهُۥ مِنۡهُمۡۗ وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَیۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ لَٱتَّبَعۡتُمُ ٱلشَّیۡطَـٰنَ إِلَّا قَلِیلࣰا
یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے
فَقَـٰتِلۡ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفۡسَكَۚ وَحَرِّضِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن یَكُفَّ بَأۡسَ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأۡسࣰا وَأَشَدُّ تَنكِیلࣰا
پس اے نبیؐ! تم اللہ کی راہ میں لڑو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو البتہ اہل ایما ن کو لڑنے کے لیے اکساؤ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے
مَّن یَشۡفَعۡ شَفَـٰعَةً حَسَنَةࣰ یَكُن لَّهُۥ نَصِیبࣱ مِّنۡهَاۖ وَمَن یَشۡفَعۡ شَفَـٰعَةࣰ سَیِّئَةࣰ یَكُن لَّهُۥ كِفۡلࣱ مِّنۡهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ مُّقِیتࣰا
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے
وَإِذَا حُیِّیتُم بِتَحِیَّةࣲ فَحَیُّوا۟ بِأَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ أَوۡ رُدُّوهَاۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءٍ حَسِیبًا
اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اُسی طرح، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
ٱللَّهُ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَۚ لَیَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ یَوۡمِ ٱلۡقِیَـٰمَةِ لَا رَیۡبَ فِیهِۗ وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِیثࣰا
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے
۞ فَمَا لَكُمۡ فِی ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ فِئَتَیۡنِ وَٱللَّهُ أَرۡكَسَهُم بِمَا كَسَبُوۤا۟ۚ أَتُرِیدُونَ أَن تَهۡدُوا۟ مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَن یُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِیلࣰا
پھر یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دو رائیں پائی جاتی ہیں، حالانکہ جو برائیاں اُنہوں نے کمائی ہیں اُن کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اُسے تم ہدایت بخش دو؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستہ سے ہٹا دیا اُس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے
وَدُّوا۟ لَوۡ تَكۡفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا۟ فَتَكُونُونَ سَوَاۤءࣰۖ فَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنۡهُمۡ أَوۡلِیَاۤءَ حَتَّىٰ یُهَاجِرُوا۟ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡا۟ فَخُذُوهُمۡ وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَیۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡۖ وَلَا تَتَّخِذُوا۟ مِنۡهُمۡ وَلِیࣰّا وَلَا نَصِیرًا
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہو جائیں لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے نہ آ جائیں، اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ
إِلَّا ٱلَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَىٰ قَوۡمِۭ بَیۡنَكُمۡ وَبَیۡنَهُم مِّیثَـٰقٌ أَوۡ جَاۤءُوكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُورُهُمۡ أَن یُقَـٰتِلُوكُمۡ أَوۡ یُقَـٰتِلُوا۟ قَوۡمَهُمۡۚ وَلَوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَیۡكُمۡ فَلَقَـٰتَلُوكُمۡۚ فَإِنِ ٱعۡتَزَلُوكُمۡ فَلَمۡ یُقَـٰتِلُوكُمۡ وَأَلۡقَوۡا۟ إِلَیۡكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ عَلَیۡهِمۡ سَبِیلࣰا
البتہ و ہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے
سَتَجِدُونَ ءَاخَرِینَ یُرِیدُونَ أَن یَأۡمَنُوكُمۡ وَیَأۡمَنُوا۟ قَوۡمَهُمۡ كُلَّ مَا رُدُّوۤا۟ إِلَى ٱلۡفِتۡنَةِ أُرۡكِسُوا۟ فِیهَاۚ فَإِن لَّمۡ یَعۡتَزِلُوكُمۡ وَیُلۡقُوۤا۟ إِلَیۡكُمُ ٱلسَّلَمَ وَیَكُفُّوۤا۟ أَیۡدِیَهُمۡ فَخُذُوهُمۡ وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡۚ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَیۡهِمۡ سُلۡطَـٰنࣰا مُّبِینࣰا
ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے
وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ أَن یَقۡتُلَ مُؤۡمِنًا إِلَّا خَطَـࣰٔاۚ وَمَن قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـࣰٔا فَتَحۡرِیرُ رَقَبَةࣲ مُّؤۡمِنَةࣲ وَدِیَةࣱ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰۤ أَهۡلِهِۦۤ إِلَّاۤ أَن یَصَّدَّقُوا۟ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوۡمٍ عَدُوࣲّ لَّكُمۡ وَهُوَ مُؤۡمِنࣱ فَتَحۡرِیرُ رَقَبَةࣲ مُّؤۡمِنَةࣲۖ وَإِن كَانَ مِن قَوۡمِۭ بَیۡنَكُمۡ وَبَیۡنَهُم مِّیثَـٰقࣱ فَدِیَةࣱ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰۤ أَهۡلِهِۦ وَتَحۡرِیرُ رَقَبَةࣲ مُّؤۡمِنَةࣲۖ فَمَن لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَهۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ تَوۡبَةࣰ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِیمًا حَكِیمࣰا
کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے چوک ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خونبہا دے، الا یہ کہ وہ خونبہا معاف کر دیں لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی غیرمسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا پھر جو غلام نہ پائے وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے یہ اِس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و دانا ہے
وَمَن یَقۡتُلۡ مُؤۡمِنࣰا مُّتَعَمِّدࣰا فَجَزَاۤؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَـٰلِدࣰا فِیهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَیۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِیمࣰا
رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ فَتَبَیَّنُوا۟ وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَنۡ أَلۡقَىٰۤ إِلَیۡكُمُ ٱلسَّلَـٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنࣰا تَبۡتَغُونَ عَرَضَ ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِیرَةࣱۚ كَذَ ٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَیۡكُمۡ فَتَبَیَّنُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِیرࣰا
اے لوگو جو ایما ن لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اُسے فوراً نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے
لَّا یَسۡتَوِی ٱلۡقَـٰعِدُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ غَیۡرُ أُو۟لِی ٱلضَّرَرِ وَٱلۡمُجَـٰهِدُونَ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَ ٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَـٰهِدِینَ بِأَمۡوَ ٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ عَلَى ٱلۡقَـٰعِدِینَ دَرَجَةࣰۚ وَكُلࣰّا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَـٰهِدِینَ عَلَى ٱلۡقَـٰعِدِینَ أَجۡرًا عَظِیمࣰا
مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اُس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے
دَرَجَـٰتࣲ مِّنۡهُ وَمَغۡفِرَةࣰ وَرَحۡمَةࣰۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورࣰا رَّحِیمًا
اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
إِنَّ ٱلَّذِینَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ ظَالِمِیۤ أَنفُسِهِمۡ قَالُوا۟ فِیمَ كُنتُمۡۖ قَالُوا۟ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِینَ فِی ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوۤا۟ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَ ٰسِعَةࣰ فَتُهَاجِرُوا۟ فِیهَاۚ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا
جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے
إِلَّا ٱلۡمُسۡتَضۡعَفِینَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَاۤءِ وَٱلۡوِلۡدَ ٰنِ لَا یَسۡتَطِیعُونَ حِیلَةࣰ وَلَا یَهۡتَدُونَ سَبِیلࣰا
ہاں جو مرد، عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے
فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن یَعۡفُوَ عَنۡهُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورࣰا
بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے
۞ وَمَن یُهَاجِرۡ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ یَجِدۡ فِی ٱلۡأَرۡضِ مُرَ ٰغَمࣰا كَثِیرࣰا وَسَعَةࣰۚ وَمَن یَخۡرُجۡ مِنۢ بَیۡتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ یُدۡرِكۡهُ ٱلۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ أَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورࣰا رَّحِیمࣰا
جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اوربسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے، پھر راستہ ہی میں اُسے موت آ جائے اُس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہو گیا، اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے