Surah An-Noor
سُورَةُ النُّورِSurah An-Nur establishes laws protecting family honor and social morality. It contains the famous Light Verse (Ayat an-Nur) describing Allah as the Light of the heavens and earth.
إِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ إِذَا دُعُوۤا۟ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِیَحۡكُمَ بَیۡنَهُمۡ أَن یَقُولُوا۟ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۚ وَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
وَمَن یُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَیَخۡشَ ٱللَّهَ وَیَتَّقۡهِ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡفَاۤىِٕزُونَ
اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں
۞ وَأَقۡسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَیۡمَـٰنِهِمۡ لَىِٕنۡ أَمَرۡتَهُمۡ لَیَخۡرُجُنَّۖ قُل لَّا تُقۡسِمُوا۟ۖ طَاعَةࣱ مَّعۡرُوفَةٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِیرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں" اِن سے کہو "قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے، تمہارے کرتوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے"
قُلۡ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِیعُوا۟ ٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡا۟ فَإِنَّمَا عَلَیۡهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیۡكُم مَّا حُمِّلۡتُمۡۖ وَإِن تُطِیعُوهُ تَهۡتَدُوا۟ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَـٰغُ ٱلۡمُبِینُ
کہو، "اللہ کے مطیع بنو اور رسولؐ کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسولؐ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے"
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمۡ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِی ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَیُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِینَهُمُ ٱلَّذِی ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنࣰاۚ یَعۡبُدُونَنِی لَا یُشۡرِكُونَ بِی شَیۡـࣰٔاۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَ ٰلِكَ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡفَـٰسِقُونَ
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں
وَأَقِیمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِیعُوا۟ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رسولؐ کی اطاعت کرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا
لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ مُعۡجِزِینَ فِی ٱلۡأَرۡضِۚ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ
جو لوگ کفر کر رہے ہیں ا ن کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کر دیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لِیَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِینَ مَلَكَتۡ أَیۡمَـٰنُكُمۡ وَٱلَّذِینَ لَمۡ یَبۡلُغُوا۟ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَـٰثَ مَرَّ ٰتࣲۚ مِّن قَبۡلِ صَلَوٰةِ ٱلۡفَجۡرِ وَحِینَ تَضَعُونَ ثِیَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِیرَةِ وَمِنۢ بَعۡدِ صَلَوٰةِ ٱلۡعِشَاۤءِۚ ثَلَـٰثُ عَوۡرَ ٰتࣲ لَّكُمۡۚ لَیۡسَ عَلَیۡكُمۡ وَلَا عَلَیۡهِمۡ جُنَاحُۢ بَعۡدَهُنَّۚ طَوَّ ٰفُونَ عَلَیۡكُم بَعۡضُكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضࣲۚ كَذَ ٰلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡـَٔایَـٰتِۗ وَٱللَّهُ عَلِیمٌ حَكِیمࣱ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں: صبح کی نماز سے پہلے، اور دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے لیے پردے کے وقت ہیں اِن کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے
وَإِذَا بَلَغَ ٱلۡأَطۡفَـٰلُ مِنكُمُ ٱلۡحُلُمَ فَلۡیَسۡتَـٔۡذِنُوا۟ كَمَا ٱسۡتَـٔۡذَنَ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَ ٰلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَایَـٰتِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِیمٌ حَكِیمࣱ
اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہے کہ اُسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں اِس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے
وَٱلۡقَوَ ٰعِدُ مِنَ ٱلنِّسَاۤءِ ٱلَّـٰتِی لَا یَرۡجُونَ نِكَاحࣰا فَلَیۡسَ عَلَیۡهِنَّ جُنَاحٌ أَن یَضَعۡنَ ثِیَابَهُنَّ غَیۡرَ مُتَبَرِّجَـٰتِۭ بِزِینَةࣲۖ وَأَن یَسۡتَعۡفِفۡنَ خَیۡرࣱ لَّهُنَّۗ وَٱللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمࣱ
اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
لَّیۡسَ عَلَى ٱلۡأَعۡمَىٰ حَرَجࣱ وَلَا عَلَى ٱلۡأَعۡرَجِ حَرَجࣱ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرِیضِ حَرَجࣱ وَلَا عَلَىٰۤ أَنفُسِكُمۡ أَن تَأۡكُلُوا۟ مِنۢ بُیُوتِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ ءَابَاۤىِٕكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ أُمَّهَـٰتِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ إِخۡوَ ٰنِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ أَخَوَ ٰتِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ أَعۡمَـٰمِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ عَمَّـٰتِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ أَخۡوَ ٰلِكُمۡ أَوۡ بُیُوتِ خَـٰلَـٰتِكُمۡ أَوۡ مَا مَلَكۡتُم مَّفَاتِحَهُۥۤ أَوۡ صَدِیقِكُمۡۚ لَیۡسَ عَلَیۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَأۡكُلُوا۟ جَمِیعًا أَوۡ أَشۡتَاتࣰاۚ فَإِذَا دَخَلۡتُم بُیُوتࣰا فَسَلِّمُوا۟ عَلَىٰۤ أَنفُسِكُمۡ تَحِیَّةࣰ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُبَـٰرَكَةࣰ طَیِّبَةࣰۚ كَذَ ٰلِكَ یُبَیِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡـَٔایَـٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا، یا مریض (کسی کے گھر سے کھا لے) اور نہ تمہارے اوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعا ئے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فر مائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَإِذَا كَانُوا۟ مَعَهُۥ عَلَىٰۤ أَمۡرࣲ جَامِعࣲ لَّمۡ یَذۡهَبُوا۟ حَتَّىٰ یَسۡتَـٔۡذِنُوهُۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ یَسۡتَـٔۡذِنُونَكَ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ فَإِذَا ٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِبَعۡضِ شَأۡنِهِمۡ فَأۡذَن لِّمَن شِئۡتَ مِنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمُ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ
مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو، اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے
لَّا تَجۡعَلُوا۟ دُعَاۤءَ ٱلرَّسُولِ بَیۡنَكُمۡ كَدُعَاۤءِ بَعۡضِكُم بَعۡضࣰاۚ قَدۡ یَعۡلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنكُمۡ لِوَاذࣰاۚ فَلۡیَحۡذَرِ ٱلَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنۡ أَمۡرِهِۦۤ أَن تُصِیبَهُمۡ فِتۡنَةٌ أَوۡ یُصِیبَهُمۡ عَذَابٌ أَلِیمٌ
مسلمانو، اپنے درمیان رسولؐ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے
أَلَاۤ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قَدۡ یَعۡلَمُ مَاۤ أَنتُمۡ عَلَیۡهِ وَیَوۡمَ یُرۡجَعُونَ إِلَیۡهِ فَیُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَیۡءٍ عَلِیمُۢ
خبردار رہو، آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے تم جس روش پر بھی ہو اللہ اُس کو جانتا ہے جس روز لوگ اُس کی طرف پلٹیں گے وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے