Surah Ar-Room
سُورَةُ الرُّومِSurah Ar-Rum begins with a prophecy about the Roman Empire's victory after defeat, which was fulfilled. It presents signs of Allah in creation and human life.
وَلَىِٕنۡ أَرۡسَلۡنَا رِیحࣰا فَرَأَوۡهُ مُصۡفَرࣰّا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعۡدِهِۦ یَكۡفُرُونَ
اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرتے رہ جاتے ہیں
فَإِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَاۤءَ إِذَا وَلَّوۡا۟ مُدۡبِرِینَ
(اے نبیؐ) تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے بھاگے چلے جا رہے ہوں
وَمَاۤ أَنتَ بِهَـٰدِ ٱلۡعُمۡیِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن یُؤۡمِنُ بِـَٔایَـٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ
اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہِ راست دکھا سکتے ہو تم تو صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِی خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفࣲ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفࣲ قُوَّةࣰ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةࣲ ضَعۡفࣰا وَشَیۡبَةࣰۚ یَخۡلُقُ مَا یَشَاۤءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِیمُ ٱلۡقَدِیرُ
اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے
وَیَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ یُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَیۡرَ سَاعَةࣲۚ كَذَ ٰلِكَ كَانُوا۟ یُؤۡفَكُونَ
اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے
وَقَالَ ٱلَّذِینَ أُوتُوا۟ ٱلۡعِلۡمَ وَٱلۡإِیمَـٰنَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِی كِتَـٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ یَوۡمِ ٱلۡبَعۡثِۖ فَهَـٰذَا یَوۡمُ ٱلۡبَعۡثِ وَلَـٰكِنَّكُمۡ كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روزِ حشر تک پڑے رہے ہو، سو یہ وہی روزِ حشر ہے، لیکن تم جانتے نہ تھے
فَیَوۡمَىِٕذࣲ لَّا یَنفَعُ ٱلَّذِینَ ظَلَمُوا۟ مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ یُسۡتَعۡتَبُونَ
پس وہ دن ہو گا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِی هَـٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلࣲۚ وَلَىِٕن جِئۡتَهُم بِـَٔایَةࣲ لَّیَقُولَنَّ ٱلَّذِینَ كَفَرُوۤا۟ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا مُبۡطِلُونَ
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو
كَذَ ٰلِكَ یَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِینَ لَا یَعۡلَمُونَ
اِس طرح ٹھپہ لگا دیتا ہے اللہ اُن لوگوں کے دلوں پر جو بے علم ہیں
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقࣱّۖ وَلَا یَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِینَ لَا یُوقِنُونَ
پس (اے نبیؐ) صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے