Surah Yunus
سُورَةُ يُونُسَSurah Yunus emphasizes the truth of the Quran and prophethood. It includes the story of Prophet Yunus (Jonah) and his people who repented and were saved from punishment.
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ الۤرۚ تِلۡكَ ءَایَـٰتُ ٱلۡكِتَـٰبِ ٱلۡحَكِیمِ
ا ل ر، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے
أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنۡ أَوۡحَیۡنَاۤ إِلَىٰ رَجُلࣲ مِّنۡهُمۡ أَنۡ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَنَّ لَهُمۡ قَدَمَ صِدۡقٍ عِندَ رَبِّهِمۡۗ قَالَ ٱلۡكَـٰفِرُونَ إِنَّ هَـٰذَا لَسَـٰحِرࣱ مُّبِینٌ
کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (کیا یہی وہ بات ہے جس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے؟
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِی خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِی سِتَّةِ أَیَّامࣲ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ یُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۖ مَا مِن شَفِیعٍ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ إِذۡنِهِۦۚ ذَ ٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
إِلَیۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِیعࣰاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقًّاۚ إِنَّهُۥ یَبۡدَؤُا۟ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیدُهُۥ لِیَجۡزِیَ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ لَهُمۡ شَرَابࣱ مِّنۡ حَمِیمࣲ وَعَذَابٌ أَلِیمُۢ بِمَا كَانُوا۟ یَكۡفُرُونَ
اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پییں اور دردناک سزا بھگتیں اُس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے
هُوَ ٱلَّذِی جَعَلَ ٱلشَّمۡسَ ضِیَاۤءࣰ وَٱلۡقَمَرَ نُورࣰا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِینَ وَٱلۡحِسَابَۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَ ٰلِكَ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ یُفَصِّلُ ٱلۡـَٔایَـٰتِ لِقَوۡمࣲ یَعۡلَمُونَ
وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
إِنَّ فِی ٱخۡتِلَـٰفِ ٱلَّیۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّقَوۡمࣲ یَتَّقُونَ
یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غلط بینی و غلط روی سے) بچنا چاہتے ہیں
إِنَّ ٱلَّذِینَ لَا یَرۡجُونَ لِقَاۤءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا وَٱطۡمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِینَ هُمۡ عَنۡ ءَایَـٰتِنَا غَـٰفِلُونَ
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ مَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ یَكۡسِبُونَ
اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے
إِنَّ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ یَهۡدِیهِمۡ رَبُّهُم بِإِیمَـٰنِهِمۡۖ تَجۡرِی مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَـٰرُ فِی جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِیمِ
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں اُن کا رب اُن کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی
دَعۡوَىٰهُمۡ فِیهَا سُبۡحَـٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِیَّتُهُمۡ فِیهَا سَلَـٰمࣱۚ وَءَاخِرُ دَعۡوَىٰهُمۡ أَنِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ
وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ “پاک ہے تو اے خدا، " اُن کی دعا یہ ہوگی کہ “سلامتی ہو " اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ “ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے "
۞ وَلَوۡ یُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسۡتِعۡجَالَهُم بِٱلۡخَیۡرِ لَقُضِیَ إِلَیۡهِمۡ أَجَلُهُمۡۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِینَ لَا یَرۡجُونَ لِقَاۤءَنَا فِی طُغۡیَـٰنِهِمۡ یَعۡمَهُونَ
اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں
وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَـٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦۤ أَوۡ قَاعِدًا أَوۡ قَاۤىِٕمࣰا فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ إِلَىٰ ضُرࣲّ مَّسَّهُۥۚ كَذَ ٰلِكَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِینَ مَا كَانُوا۟ یَعۡمَلُونَ
انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَا ٱلۡقُرُونَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَمَّا ظَلَمُوا۟ وَجَاۤءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَیِّنَـٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِیُؤۡمِنُوا۟ۚ كَذَ ٰلِكَ نَجۡزِی ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡمُجۡرِمِینَ
لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں
ثُمَّ جَعَلۡنَـٰكُمۡ خَلَـٰۤىِٕفَ فِی ٱلۡأَرۡضِ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لِنَنظُرَ كَیۡفَ تَعۡمَلُونَ
اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَیۡهِمۡ ءَایَاتُنَا بَیِّنَـٰتࣲ قَالَ ٱلَّذِینَ لَا یَرۡجُونَ لِقَاۤءَنَا ٱئۡتِ بِقُرۡءَانٍ غَیۡرِ هَـٰذَاۤ أَوۡ بَدِّلۡهُۚ قُلۡ مَا یَكُونُ لِیۤ أَنۡ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلۡقَاۤىِٕ نَفۡسِیۤۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا یُوحَىٰۤ إِلَیَّۖ إِنِّیۤ أَخَافُ إِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّی عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیمࣲ
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے"
قُل لَّوۡ شَاۤءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوۡتُهُۥ عَلَیۡكُمۡ وَلَاۤ أَدۡرَىٰكُم بِهِۦۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیكُمۡ عُمُرࣰا مِّن قَبۡلِهِۦۤۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
اور کہو “اگر اللہ کی مشیّت نہ ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔایَـٰتِهِۦۤۚ إِنَّهُۥ لَا یُفۡلِحُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھُوٹا قرار دے یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے "
وَیَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا یَضُرُّهُمۡ وَلَا یَنفَعُهُمۡ وَیَقُولُونَ هَـٰۤؤُلَاۤءِ شُفَعَـٰۤؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَلَا فِی ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا یُشۡرِكُونَ
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے محمدؐ، ان سے کہو “کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟" پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّاۤ أُمَّةࣰ وَ ٰحِدَةࣰ فَٱخۡتَلَفُوا۟ۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةࣱ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیۡنَهُمۡ فِیمَا فِیهِ یَخۡتَلِفُونَ
ابتداءً سارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا
وَیَقُولُونَ لَوۡلَاۤ أُنزِلَ عَلَیۡهِ ءَایَةࣱ مِّن رَّبِّهِۦۖ فَقُلۡ إِنَّمَا ٱلۡغَیۡبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوۤا۟ إِنِّی مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِینَ
اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبیؐ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی، تو ان سے کہو “غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے، اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں "
وَإِذَاۤ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةࣰ مِّنۢ بَعۡدِ ضَرَّاۤءَ مَسَّتۡهُمۡ إِذَا لَهُم مَّكۡرࣱ فِیۤ ءَایَاتِنَاۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسۡرَعُ مَكۡرًاۚ إِنَّ رُسُلَنَا یَكۡتُبُونَ مَا تَمۡكُرُونَ
لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم ان کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں ان سے کہو “اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلم بند کر رہے ہیں "
هُوَ ٱلَّذِی یُسَیِّرُكُمۡ فِی ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰۤ إِذَا كُنتُمۡ فِی ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَیۡنَ بِهِم بِرِیحࣲ طَیِّبَةࣲ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَاۤءَتۡهَا رِیحٌ عَاصِفࣱ وَجَاۤءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانࣲ وَظَنُّوۤا۟ أَنَّهُمۡ أُحِیطَ بِهِمۡ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخۡلِصِینَ لَهُ ٱلدِّینَ لَىِٕنۡ أَنجَیۡتَنَا مِنۡ هَـٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِینَ
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے"
فَلَمَّاۤ أَنجَىٰهُمۡ إِذَا هُمۡ یَبۡغُونَ فِی ٱلۡأَرۡضِ بِغَیۡرِ ٱلۡحَقِّۗ یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغۡیُكُمۡ عَلَىٰۤ أَنفُسِكُمۖ مَّتَـٰعَ ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَاۖ ثُمَّ إِلَیۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا كَمَاۤءٍ أَنزَلۡنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَاۤءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ مِمَّا یَأۡكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلۡأَنۡعَـٰمُ حَتَّىٰۤ إِذَاۤ أَخَذَتِ ٱلۡأَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَٱزَّیَّنَتۡ وَظَنَّ أَهۡلُهَاۤ أَنَّهُمۡ قَـٰدِرُونَ عَلَیۡهَاۤ أَتَىٰهَاۤ أَمۡرُنَا لَیۡلًا أَوۡ نَهَارࣰا فَجَعَلۡنَـٰهَا حَصِیدࣰا كَأَن لَّمۡ تَغۡنَ بِٱلۡأَمۡسِۚ كَذَ ٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡـَٔایَـٰتِ لِقَوۡمࣲ یَتَفَكَّرُونَ
دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں
وَٱللَّهُ یَدۡعُوۤا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَـٰمِ وَیَهۡدِی مَن یَشَاۤءُ إِلَىٰ صِرَ ٰطࣲ مُّسۡتَقِیمࣲ
(تم اِس نا پائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دار السلام کی طرف دعوت دے رہا ہے (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے
۞ لِّلَّذِینَ أَحۡسَنُوا۟ ٱلۡحُسۡنَىٰ وَزِیَادَةࣱۖ وَلَا یَرۡهَقُ وُجُوهَهُمۡ قَتَرࣱ وَلَا ذِلَّةٌۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَصۡحَـٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِیهَا خَـٰلِدُونَ
جن لوگوں نے بھَلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھَلائی ہے اور مزید فضل ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی وہ جنت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
وَٱلَّذِینَ كَسَبُوا۟ ٱلسَّیِّـَٔاتِ جَزَاۤءُ سَیِّئَةِۭ بِمِثۡلِهَا وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةࣱۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنۡ عَاصِمࣲۖ كَأَنَّمَاۤ أُغۡشِیَتۡ وُجُوهُهُمۡ قِطَعࣰا مِّنَ ٱلَّیۡلِ مُظۡلِمًاۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَصۡحَـٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِیهَا خَـٰلِدُونَ
اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی بُرائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے، ذلّت ان پر مسلّط ہو گی، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہو گا، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
وَیَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِیعࣰا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ أَشۡرَكُوا۟ مَكَانَكُمۡ أَنتُمۡ وَشُرَكَاۤؤُكُمۡۚ فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَهُمۡۖ وَقَالَ شُرَكَاۤؤُهُم مَّا كُنتُمۡ إِیَّانَا تَعۡبُدُونَ
جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیّت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ “تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے
فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِیدَۢا بَیۡنَنَا وَبَیۡنَكُمۡ إِن كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغَـٰفِلِینَ
ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے "
هُنَالِكَ تَبۡلُوا۟ كُلُّ نَفۡسࣲ مَّاۤ أَسۡلَفَتۡۚ وَرُدُّوۤا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۖ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُوا۟ یَفۡتَرُونَ
اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے مالک حقیقی کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے
قُلۡ مَن یَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَاۤءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن یَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَـٰرَ وَمَن یُخۡرِجُ ٱلۡحَیَّ مِنَ ٱلۡمَیِّتِ وَیُخۡرِجُ ٱلۡمَیِّتَ مِنَ ٱلۡحَیِّ وَمَن یُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَیَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ
اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟
فَذَ ٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَاذَا بَعۡدَ ٱلۡحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَـٰلُۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ
تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ آخر یہ تم کدھر پھرائے جا رہے ہو؟
كَذَ ٰلِكَ حَقَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِینَ فَسَقُوۤا۟ أَنَّهُمۡ لَا یُؤۡمِنُونَ
(اے نبیؐ، دیکھو) اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے رب کی بات صادق آ گئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَاۤىِٕكُم مَّن یَبۡدَؤُا۟ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیدُهُۥۚ قُلِ ٱللَّهُ یَبۡدَؤُا۟ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیدُهُۥۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
اِن سے پُوچھو، تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی، پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو؟
قُلۡ هَلۡ مِن شُرَكَاۤىِٕكُم مَّن یَهۡدِیۤ إِلَى ٱلۡحَقِّۚ قُلِ ٱللَّهُ یَهۡدِی لِلۡحَقِّۗ أَفَمَن یَهۡدِیۤ إِلَى ٱلۡحَقِّ أَحَقُّ أَن یُتَّبَعَ أَمَّن لَّا یَهِدِّیۤ إِلَّاۤ أَن یُهۡدَىٰۖ فَمَا لَكُمۡ كَیۡفَ تَحۡكُمُونَ
اِن سے پُوچھو تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے پھر بھلا بتاؤ، جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا اِلّا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے، کیسے اُلٹے الٹے فیصلے کرتے ہو؟
وَمَا یَتَّبِعُ أَكۡثَرُهُمۡ إِلَّا ظَنًّاۚ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا یُغۡنِی مِنَ ٱلۡحَقِّ شَیۡـًٔاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِیمُۢ بِمَا یَفۡعَلُونَ
حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں، حالاں کہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے
وَمَا كَانَ هَـٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ أَن یُفۡتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن تَصۡدِیقَ ٱلَّذِی بَیۡنَ یَدَیۡهِ وَتَفۡصِیلَ ٱلۡكِتَـٰبِ لَا رَیۡبَ فِیهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ
اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آ چکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے
أَمۡ یَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ فَأۡتُوا۟ بِسُورَةࣲ مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُوا۟ مَنِ ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَـٰدِقِینَ
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، “اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو"
بَلۡ كَذَّبُوا۟ بِمَا لَمۡ یُحِیطُوا۟ بِعِلۡمِهِۦ وَلَمَّا یَأۡتِهِمۡ تَأۡوِیلُهُۥۚ كَذَ ٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَٱنظُرۡ كَیۡفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلظَّـٰلِمِینَ
اصل یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا، اُس کو اِنہوں نے (خوامخواہ اٹکل پچّو) جھٹلا دیا اِسی طرح تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو اُن ظالموں کا کیا انجام ہُوا
وَمِنۡهُم مَّن یُؤۡمِنُ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن لَّا یُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَرَبُّكَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُفۡسِدِینَ
اِن میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اور تیرا رب اُن مفسدوں کو خوب جانتا ہے
وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّی عَمَلِی وَلَكُمۡ عَمَلُكُمۡۖ أَنتُم بَرِیۤـُٔونَ مِمَّاۤ أَعۡمَلُ وَأَنَا۠ بَرِیۤءࣱ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ
اگر یہ تجھے جھٹلاتے ہیں تو کہہ دے کہ “میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں"
وَمِنۡهُم مَّن یَسۡتَمِعُونَ إِلَیۡكَۚ أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ وَلَوۡ كَانُوا۟ لَا یَعۡقِلُونَ
ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں، مگر کیا تو بہروں کو سنائیگا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟
وَمِنۡهُم مَّن یَنظُرُ إِلَیۡكَۚ أَفَأَنتَ تَهۡدِی ٱلۡعُمۡیَ وَلَوۡ كَانُوا۟ لَا یُبۡصِرُونَ
اِن میں بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں، مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ انہیں کچھ نہ سُوجھتا ہو؟
إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَظۡلِمُ ٱلنَّاسَ شَیۡـࣰٔا وَلَـٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمۡ یَظۡلِمُونَ
حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں
وَیَوۡمَ یَحۡشُرُهُمۡ كَأَن لَّمۡ یَلۡبَثُوۤا۟ إِلَّا سَاعَةࣰ مِّنَ ٱلنَّهَارِ یَتَعَارَفُونَ بَیۡنَهُمۡۚ قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِینَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَاۤءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهۡتَدِینَ
(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے (اس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہرگز وہ راہِ راست پر نہ تھے
وَإِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِی نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَإِلَیۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِیدٌ عَلَىٰ مَا یَفۡعَلُونَ
جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ان کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھا دیں یا اس سے پہلے ہی تجھے اُٹھا لیں، بہرحال اِنہیں آنا ہماری ہی طرف ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے
وَلِكُلِّ أُمَّةࣲ رَّسُولࣱۖ فَإِذَا جَاۤءَ رَسُولُهُمۡ قُضِیَ بَیۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا یُظۡلَمُونَ
ہر امّت کے لیے ایک رسُول ہے پھر جب کسی امّت کے پاس اُس کا رسُول آ جاتا ہے تو اس کا فیصلہ پُورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا
وَیَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَـٰدِقِینَ
کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہو گی؟
قُل لَّاۤ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِی ضَرࣰّا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَاۤءَ ٱللَّهُۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۚ إِذَا جَاۤءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا یَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةࣰ وَلَا یَسۡتَقۡدِمُونَ
کہو “میرے اختیار میں خود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیّت پر موقوف ہے ہر امّت کے لیے مُہلت کی ایک مدّت ہے، جب یہ مدّت پُوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی"
قُلۡ أَرَءَیۡتُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُهُۥ بَیَـٰتًا أَوۡ نَهَارࣰا مَّاذَا یَسۡتَعۡجِلُ مِنۡهُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آ جائے (تو تم کیا کر سکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟