Surah Yunus
سُورَةُ يُونُسَSurah Yunus emphasizes the truth of the Quran and prophethood. It includes the story of Prophet Yunus (Jonah) and his people who repented and were saved from punishment.
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦۤۚ ءَاۤلۡـَٔـٰنَ وَقَدۡ كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ
کیا جب وہ تم پر آ پڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کر رہے تھے!
ثُمَّ قِیلَ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلۡخُلۡدِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ
پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جا سکتا ہے؟
۞ وَیَسۡتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَۖ قُلۡ إِی وَرَبِّیۤ إِنَّهُۥ لَحَقࣱّۖ وَمَاۤ أَنتُم بِمُعۡجِزِینَ
پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو “میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو"
وَلَوۡ أَنَّ لِكُلِّ نَفۡسࣲ ظَلَمَتۡ مَا فِی ٱلۡأَرۡضِ لَٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلۡعَذَابَۖ وَقُضِیَ بَیۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا یُظۡلَمُونَ
اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے مگر ان کے درمیان پُورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا
أَلَاۤ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ أَلَاۤ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقࣱّ وَلَـٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا یَعۡلَمُونَ
سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے سُن رکھو! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں
هُوَ یُحۡیِۦ وَیُمِیتُ وَإِلَیۡهِ تُرۡجَعُونَ
وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَاۤءَتۡكُم مَّوۡعِظَةࣱ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَاۤءࣱ لِّمَا فِی ٱلصُّدُورِ وَهُدࣰى وَرَحۡمَةࣱ لِّلۡمُؤۡمِنِینَ
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے
قُلۡ بِفَضۡلِ ٱللَّهِ وَبِرَحۡمَتِهِۦ فَبِذَ ٰلِكَ فَلۡیَفۡرَحُوا۟ هُوَ خَیۡرࣱ مِّمَّا یَجۡمَعُونَ
اے نبیؐ، کہو کہ “یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"
قُلۡ أَرَءَیۡتُم مَّاۤ أَنزَلَ ٱللَّهُ لَكُم مِّن رِّزۡقࣲ فَجَعَلۡتُم مِّنۡهُ حَرَامࣰا وَحَلَـٰلࣰا قُلۡ ءَاۤللَّهُ أَذِنَ لَكُمۡۖ أَمۡ عَلَى ٱللَّهِ تَفۡتَرُونَ
اے نبیؐ، ان سے کہو “تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرا لیا!" اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟
وَمَا ظَنُّ ٱلَّذِینَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ یَوۡمَ ٱلۡقِیَـٰمَةِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا یَشۡكُرُونَ
جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افترا باندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہو گا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے
وَمَا تَكُونُ فِی شَأۡنࣲ وَمَا تَتۡلُوا۟ مِنۡهُ مِن قُرۡءَانࣲ وَلَا تَعۡمَلُونَ مِنۡ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَیۡكُمۡ شُهُودًا إِذۡ تُفِیضُونَ فِیهِۚ وَمَا یَعۡزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثۡقَالِ ذَرَّةࣲ فِی ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِی ٱلسَّمَاۤءِ وَلَاۤ أَصۡغَرَ مِن ذَ ٰلِكَ وَلَاۤ أَكۡبَرَ إِلَّا فِی كِتَـٰبࣲ مُّبِینٍ
اے نبیؐ، تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سُناتے ہو، اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اُس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو
أَلَاۤ إِنَّ أَوۡلِیَاۤءَ ٱللَّهِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡهِمۡ وَلَا هُمۡ یَحۡزَنُونَ
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا،
ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ یَتَّقُونَ
ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
لَهُمُ ٱلۡبُشۡرَىٰ فِی ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا وَفِی ٱلۡـَٔاخِرَةِۚ لَا تَبۡدِیلَ لِكَلِمَـٰتِ ٱللَّهِۚ ذَ ٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِیمُ
دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے
وَلَا یَحۡزُنكَ قَوۡلُهُمۡۘ إِنَّ ٱلۡعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِیعًاۚ هُوَ ٱلسَّمِیعُ ٱلۡعَلِیمُ
اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزّت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
أَلَاۤ إِنَّ لِلَّهِ مَن فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَمَن فِی ٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا یَتَّبِعُ ٱلَّذِینَ یَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُرَكَاۤءَۚ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا یَخۡرُصُونَ
آگاہ رہو! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے، سب سے سب اللہ کے مملوک ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ (اپنے خودساختہ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نِرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں
هُوَ ٱلَّذِی جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّیۡلَ لِتَسۡكُنُوا۟ فِیهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِی ذَ ٰلِكَ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّقَوۡمࣲ یَسۡمَعُونَ
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (کھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو) سنتے ہیں
قَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدࣰاۗ سُبۡحَـٰنَهُۥۖ هُوَ ٱلۡغَنِیُّۖ لَهُۥ مَا فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَمَا فِی ٱلۡأَرۡضِۚ إِنۡ عِندَكُم مِّن سُلۡطَـٰنِۭ بِهَـٰذَاۤۚ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے سبحان اللہ! وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے تمہارے پاس اس قول کے لیے آخر کیا دلیل ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟
قُلۡ إِنَّ ٱلَّذِینَ یَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا یُفۡلِحُونَ
اے محمدؐ، کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پا سکتے
مَتَـٰعࣱ فِی ٱلدُّنۡیَا ثُمَّ إِلَیۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ نُذِیقُهُمُ ٱلۡعَذَابَ ٱلشَّدِیدَ بِمَا كَانُوا۟ یَكۡفُرُونَ
دنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کر لیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کر رہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
۞ وَٱتۡلُ عَلَیۡهِمۡ نَبَأَ نُوحٍ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦ یَـٰقَوۡمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَیۡكُم مَّقَامِی وَتَذۡكِیرِی بِـَٔایَـٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡتُ فَأَجۡمِعُوۤا۟ أَمۡرَكُمۡ وَشُرَكَاۤءَكُمۡ ثُمَّ لَا یَكُنۡ أَمۡرُكُمۡ عَلَیۡكُمۡ غُمَّةࣰ ثُمَّ ٱقۡضُوۤا۟ إِلَیَّ وَلَا تُنظِرُونِ
اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ “اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کو ئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آؤ اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو
فَإِن تَوَلَّیۡتُمۡ فَمَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِیَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِینَ
تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں"
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّیۡنَـٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِی ٱلۡفُلۡكِ وَجَعَلۡنَـٰهُمۡ خَلَـٰۤىِٕفَ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِینَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔایَـٰتِنَاۖ فَٱنظُرۡ كَیۡفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِینَ
انہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچا لیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایا اور ان سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) اُن کا کیا انجام ہوا
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَاۤءُوهُم بِٱلۡبَیِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِیُؤۡمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبۡلُۚ كَذَ ٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡمُعۡتَدِینَ
پھر نوحؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتے ہیں
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ وَهَـٰرُونَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِی۟هِۦ بِـَٔایَـٰتِنَا فَٱسۡتَكۡبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوۡمࣰا مُّجۡرِمِینَ
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰؑ اور ہارونؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے
فَلَمَّا جَاۤءَهُمُ ٱلۡحَقُّ مِنۡ عِندِنَا قَالُوۤا۟ إِنَّ هَـٰذَا لَسِحۡرࣱ مُّبِینࣱ
پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے
قَالَ مُوسَىٰۤ أَتَقُولُونَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَاۤءَكُمۡۖ أَسِحۡرٌ هَـٰذَا وَلَا یُفۡلِحُ ٱلسَّـٰحِرُونَ
موسیٰؑ نے کہا: “تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے"
قَالُوۤا۟ أَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَیۡهِ ءَابَاۤءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلۡكِبۡرِیَاۤءُ فِی ٱلۡأَرۡضِ وَمَا نَحۡنُ لَكُمَا بِمُؤۡمِنِینَ
اُنہوں نے جواب میں کہا “کیا تواس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُ س طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہو جائے؟ تمہارے بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں"
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِی بِكُلِّ سَـٰحِرٍ عَلِیمࣲ
اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے) کہا کہ “ہر ماہر فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو "
فَلَمَّا جَاۤءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰۤ أَلۡقُوا۟ مَاۤ أَنتُم مُّلۡقُونَ
جب جادو گر آ گئے تو موسیٰؑ نے ان سے کہا “جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو"
فَلَمَّاۤ أَلۡقَوۡا۟ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَیُبۡطِلُهُۥۤ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِینَ
پھر جب انہوں نے اپنے آنچھر پھینک دیے تو موسیٰؑ نے کہا “یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے، اللہ ابھی اِسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا
وَیُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو"
فَمَاۤ ءَامَنَ لِمُوسَىٰۤ إِلَّا ذُرِّیَّةࣱ مِّن قَوۡمِهِۦ عَلَىٰ خَوۡفࣲ مِّن فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِی۟هِمۡ أَن یَفۡتِنَهُمۡۚ وَإِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالࣲ فِی ٱلۡأَرۡضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلۡمُسۡرِفِینَ
(پھر دیکھو کہ) موسیٰؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سر بر آوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں
وَقَالَ مُوسَىٰ یَـٰقَوۡمِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَیۡهِ تَوَكَّلُوۤا۟ إِن كُنتُم مُّسۡلِمِینَ
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو"
فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡنَا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةࣰ لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ
انہوں نے جواب دیا “ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا
وَنَجِّنَا بِرَحۡمَتِكَ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ
اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے"
وَأَوۡحَیۡنَاۤ إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِیهِ أَن تَبَوَّءَا لِقَوۡمِكُمَا بِمِصۡرَ بُیُوتࣰا وَٱجۡعَلُوا۟ بُیُوتَكُمۡ قِبۡلَةࣰ وَأَقِیمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ
اور ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ “مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرا لو اور نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو بشارت دے دو"
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَاۤ إِنَّكَ ءَاتَیۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَأَهُۥ زِینَةࣰ وَأَمۡوَ ٰلࣰا فِی ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا رَبَّنَا لِیُضِلُّوا۟ عَن سَبِیلِكَۖ رَبَّنَا ٱطۡمِسۡ عَلَىٰۤ أَمۡوَ ٰلِهِمۡ وَٱشۡدُدۡ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوا۟ حَتَّىٰ یَرَوُا۟ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِیمَ
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں"
قَالَ قَدۡ أُجِیبَت دَّعۡوَتُكُمَا فَٱسۡتَقِیمَا وَلَا تَتَّبِعَاۤنِّ سَبِیلَ ٱلَّذِینَ لَا یَعۡلَمُونَ
اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے"
۞ وَجَـٰوَزۡنَا بِبَنِیۤ إِسۡرَ ٰۤءِیلَ ٱلۡبَحۡرَ فَأَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَجُنُودُهُۥ بَغۡیࣰا وَعَدۡوًاۖ حَتَّىٰۤ إِذَاۤ أَدۡرَكَهُ ٱلۡغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱلَّذِیۤ ءَامَنَتۡ بِهِۦ بَنُوۤا۟ إِسۡرَ ٰۤءِیلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِینَ
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے پھر فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں"
ءَاۤلۡـَٔـٰنَ وَقَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلۡمُفۡسِدِینَ
(جواب دیا گیا) “اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا
فَٱلۡیَوۡمَ نُنَجِّیكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنۡ خَلۡفَكَ ءَایَةࣰۚ وَإِنَّ كَثِیرࣰا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنۡ ءَایَـٰتِنَا لَغَـٰفِلُونَ
اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں"
وَلَقَدۡ بَوَّأۡنَا بَنِیۤ إِسۡرَ ٰۤءِیلَ مُبَوَّأَ صِدۡقࣲ وَرَزَقۡنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّیِّبَـٰتِ فَمَا ٱخۡتَلَفُوا۟ حَتَّىٰ جَاۤءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُۚ إِنَّ رَبَّكَ یَقۡضِی بَیۡنَهُمۡ یَوۡمَ ٱلۡقِیَـٰمَةِ فِیمَا كَانُوا۟ فِیهِ یَخۡتَلِفُونَ
ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگراُس وقت جبکہ علم اُن کے پاس آ چکا تھا یقیناً تیرا رب قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں
فَإِن كُنتَ فِی شَكࣲّ مِّمَّاۤ أَنزَلۡنَاۤ إِلَیۡكَ فَسۡـَٔلِ ٱلَّذِینَ یَقۡرَءُونَ ٱلۡكِتَـٰبَ مِن قَبۡلِكَۚ لَقَدۡ جَاۤءَكَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِینَ
اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو
وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلَّذِینَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔایَـٰتِ ٱللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡخَـٰسِرِینَ
اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے، ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا
إِنَّ ٱلَّذِینَ حَقَّتۡ عَلَیۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤۡمِنُونَ
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے ان کے سامنے خواہ کوئی نشانی آ جائے
وَلَوۡ جَاۤءَتۡهُمۡ كُلُّ ءَایَةٍ حَتَّىٰ یَرَوُا۟ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِیمَ
وہ کبھی ایمان لا کر نہیں دیتے جب تک کہ درد ناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں
فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡیَةٌ ءَامَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ إِیمَـٰنُهَاۤ إِلَّا قَوۡمَ یُونُسَ لَمَّاۤ ءَامَنُوا۟ كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡیِ فِی ٱلۡحَیَوٰةِ ٱلدُّنۡیَا وَمَتَّعۡنَـٰهُمۡ إِلَىٰ حِینࣲ
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا
وَلَوۡ شَاۤءَ رَبُّكَ لَـَٔامَنَ مَن فِی ٱلۡأَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِیعًاۚ أَفَأَنتَ تُكۡرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ یَكُونُوا۟ مُؤۡمِنِینَ
اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟
وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ أَن تُؤۡمِنَ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَیَجۡعَلُ ٱلرِّجۡسَ عَلَى ٱلَّذِینَ لَا یَعۡقِلُونَ
کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے