Surah Al-Anfaal
سُورَةُ الأَنفَالِSurah Al-Anfal was revealed after the Battle of Badr and addresses the distribution of war spoils, the ethics of warfare, and the importance of unity among believers.
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ یَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡأَنفَالِۖ قُلِ ٱلۡأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصۡلِحُوا۟ ذَاتَ بَیۡنِكُمۡۖ وَأَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۤ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِینَ
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِینَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَإِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِیمَـٰنࣰا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ یَتَوَكَّلُونَ
مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
ٱلَّذِینَ یُقِیمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَـٰهُمۡ یُنفِقُونَ
(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں
أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقࣰّاۚ لَّهُمۡ دَرَجَـٰتٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةࣱ وَرِزۡقࣱ كَرِیمࣱ
یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے
كَمَاۤ أَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَیۡتِكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّ فَرِیقࣰا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ لَكَـٰرِهُونَ
(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی
یُجَـٰدِلُونَكَ فِی ٱلۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَیَّنَ كَأَنَّمَا یُسَاقُونَ إِلَى ٱلۡمَوۡتِ وَهُمۡ یَنظُرُونَ
وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں
وَإِذۡ یَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحۡدَى ٱلطَّاۤىِٕفَتَیۡنِ أَنَّهَا لَكُمۡ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیۡرَ ذَاتِ ٱلشَّوۡكَةِ تَكُونُ لَكُمۡ وَیُرِیدُ ٱللَّهُ أَن یُحِقَّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَیَقۡطَعَ دَابِرَ ٱلۡكَـٰفِرِینَ
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے
لِیُحِقَّ ٱلۡحَقَّ وَیُبۡطِلَ ٱلۡبَـٰطِلَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں
إِذۡ تَسۡتَغِیثُونَ رَبَّكُمۡ فَٱسۡتَجَابَ لَكُمۡ أَنِّی مُمِدُّكُم بِأَلۡفࣲ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ مُرۡدِفِینَ
جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمۡۚ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِیزٌ حَكِیمٌ
اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے
إِذۡ یُغَشِّیكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةࣰ مِّنۡهُ وَیُنَزِّلُ عَلَیۡكُم مِّنَ ٱلسَّمَاۤءِ مَاۤءࣰ لِّیُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَیُذۡهِبَ عَنكُمۡ رِجۡزَ ٱلشَّیۡطَـٰنِ وَلِیَرۡبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمۡ وَیُثَبِّتَ بِهِ ٱلۡأَقۡدَامَ
جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے
إِذۡ یُوحِی رَبُّكَ إِلَى ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ أَنِّی مَعَكُمۡ فَثَبِّتُوا۟ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ۚ سَأُلۡقِی فِی قُلُوبِ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعۡبَ فَٱضۡرِبُوا۟ فَوۡقَ ٱلۡأَعۡنَاقِ وَٱضۡرِبُوا۟ مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانࣲ
جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو
ذَ ٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَاۤقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَمَن یُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِیدُ ٱلۡعِقَابِ
یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے
ذَ ٰلِكُمۡ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلۡكَـٰفِرِینَ عَذَابَ ٱلنَّارِ
یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِذَا لَقِیتُمُ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ زَحۡفࣰا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلۡأَدۡبَارَ
اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا
وَمَن یُوَلِّهِمۡ یَوۡمَىِٕذࣲ دُبُرَهُۥۤ إِلَّا مُتَحَرِّفࣰا لِّقِتَالٍ أَوۡ مُتَحَیِّزًا إِلَىٰ فِئَةࣲ فَقَدۡ بَاۤءَ بِغَضَبࣲ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِیرُ
اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے
فَلَمۡ تَقۡتُلُوهُمۡ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمۡۚ وَمَا رَمَیۡتَ إِذۡ رَمَیۡتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ وَلِیُبۡلِیَ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ مِنۡهُ بَلَاۤءً حَسَنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِیعٌ عَلِیمࣱ
تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
ذَ ٰلِكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَیۡدِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ
(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے
إِن تَسۡتَفۡتِحُوا۟ فَقَدۡ جَاۤءَكُمُ ٱلۡفَتۡحُۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَیۡرࣱ لَّكُمۡۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدۡ وَلَن تُغۡنِیَ عَنكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَیۡـࣰٔا وَلَوۡ كَثُرَتۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ
(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوۡا۟ عَنۡهُ وَأَنتُمۡ تَسۡمَعُونَ
اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِینَ قَالُوا۟ سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا یَسۡمَعُونَ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے
۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَاۤبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلۡبُكۡمُ ٱلَّذِینَ لَا یَعۡقِلُونَ
کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے
وَلَوۡ عَلِمَ ٱللَّهُ فِیهِمۡ خَیۡرࣰا لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ وَلَوۡ أَسۡمَعَهُمۡ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱسۡتَجِیبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا یُحۡیِیكُمۡۖ وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ یَحُولُ بَیۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهِۦ وَأَنَّهُۥۤ إِلَیۡهِ تُحۡشَرُونَ
مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے
وَٱتَّقُوا۟ فِتۡنَةࣰ لَّا تُصِیبَنَّ ٱلَّذِینَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمۡ خَاۤصَّةࣰۖ وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِیدُ ٱلۡعِقَابِ
اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے
وَٱذۡكُرُوۤا۟ إِذۡ أَنتُمۡ قَلِیلࣱ مُّسۡتَضۡعَفُونَ فِی ٱلۡأَرۡضِ تَخَافُونَ أَن یَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمۡ وَأَیَّدَكُم بِنَصۡرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّیِّبَـٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوۤا۟ أَمَـٰنَـٰتِكُمۡ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو
وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّمَاۤ أَمۡوَ ٰلُكُمۡ وَأَوۡلَـٰدُكُمۡ فِتۡنَةࣱ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥۤ أَجۡرٌ عَظِیمࣱ
اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ یَجۡعَل لَّكُمۡ فُرۡقَانࣰا وَیُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَیِّـَٔاتِكُمۡ وَیَغۡفِرۡ لَكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِیمِ
مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے
وَإِذۡ یَمۡكُرُ بِكَ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ لِیُثۡبِتُوكَ أَوۡ یَقۡتُلُوكَ أَوۡ یُخۡرِجُوكَۚ وَیَمۡكُرُونَ وَیَمۡكُرُ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَیۡرُ ٱلۡمَـٰكِرِینَ
اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَیۡهِمۡ ءَایَـٰتُنَا قَالُوا۟ قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَاۤءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هَـٰذَاۤ إِنۡ هَـٰذَاۤ إِلَّاۤ أَسَـٰطِیرُ ٱلۡأَوَّلِینَ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
وَإِذۡ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ ٱلۡحَقَّ مِنۡ عِندِكَ فَأَمۡطِرۡ عَلَیۡنَا حِجَارَةࣰ مِّنَ ٱلسَّمَاۤءِ أَوِ ٱئۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیمࣲ
اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج
وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِیُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِیهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ یَسۡتَغۡفِرُونَ
اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے
وَمَا لَهُمۡ أَلَّا یُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمۡ یَصُدُّونَ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَمَا كَانُوۤا۟ أَوۡلِیَاۤءَهُۥۤۚ إِنۡ أَوۡلِیَاۤؤُهُۥۤ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ وَلَـٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا یَعۡلَمُونَ
اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِندَ ٱلۡبَیۡتِ إِلَّا مُكَاۤءࣰ وَتَصۡدِیَةࣰۚ فَذُوقُوا۟ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو
إِنَّ ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ یُنفِقُونَ أَمۡوَ ٰلَهُمۡ لِیَصُدُّوا۟ عَن سَبِیلِ ٱللَّهِۚ فَسَیُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَیۡهِمۡ حَسۡرَةࣰ ثُمَّ یُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِینَ كَفَرُوۤا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ یُحۡشَرُونَ
جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے
لِیَمِیزَ ٱللَّهُ ٱلۡخَبِیثَ مِنَ ٱلطَّیِّبِ وَیَجۡعَلَ ٱلۡخَبِیثَ بَعۡضَهُۥ عَلَىٰ بَعۡضࣲ فَیَرۡكُمَهُۥ جَمِیعࣰا فَیَجۡعَلَهُۥ فِی جَهَنَّمَۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ هُمُ ٱلۡخَـٰسِرُونَ
تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں
قُل لِّلَّذِینَ كَفَرُوۤا۟ إِن یَنتَهُوا۟ یُغۡفَرۡ لَهُم مَّا قَدۡ سَلَفَ وَإِن یَعُودُوا۟ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ ٱلۡأَوَّلِینَ
(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)
وَقَـٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةࣱ وَیَكُونَ ٱلدِّینُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا یَعۡمَلُونَ بَصِیرࣱ
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
وَإِن تَوَلَّوۡا۟ فَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَىٰكُمۡۚ نِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِیرُ
اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے
۞ وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَیۡءࣲ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡیَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِینِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِیلِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَاۤ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا یَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ یَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ قَدِیرٌ
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
إِذۡ أَنتُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلدُّنۡیَا وَهُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلۡقُصۡوَىٰ وَٱلرَّكۡبُ أَسۡفَلَ مِنكُمۡۚ وَلَوۡ تَوَاعَدتُّمۡ لَٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِی ٱلۡمِیعَـٰدِ وَلَـٰكِن لِّیَقۡضِیَ ٱللَّهُ أَمۡرࣰا كَانَ مَفۡعُولࣰا لِّیَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢ بَیِّنَةࣲ وَیَحۡیَىٰ مَنۡ حَیَّ عَنۢ بَیِّنَةࣲۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِیعٌ عَلِیمٌ
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
إِذۡ یُرِیكَهُمُ ٱللَّهُ فِی مَنَامِكَ قَلِیلࣰاۖ وَلَوۡ أَرَىٰكَهُمۡ كَثِیرࣰا لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَـٰزَعۡتُمۡ فِی ٱلۡأَمۡرِ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَۚ إِنَّهُۥ عَلِیمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے
وَإِذۡ یُرِیكُمُوهُمۡ إِذِ ٱلۡتَقَیۡتُمۡ فِیۤ أَعۡیُنِكُمۡ قَلِیلࣰا وَیُقَلِّلُكُمۡ فِیۤ أَعۡیُنِهِمۡ لِیَقۡضِیَ ٱللَّهُ أَمۡرࣰا كَانَ مَفۡعُولࣰاۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ إِذَا لَقِیتُمۡ فِئَةࣰ فَٱثۡبُتُوا۟ وَٱذۡكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِیرࣰا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو
وَأَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَـٰزَعُوا۟ فَتَفۡشَلُوا۟ وَتَذۡهَبَ رِیحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوۤا۟ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِینَ
اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِینَ خَرَجُوا۟ مِن دِیَـٰرِهِم بَطَرࣰا وَرِئَاۤءَ ٱلنَّاسِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیلِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ بِمَا یَعۡمَلُونَ مُحِیطࣱ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے
وَإِذۡ زَیَّنَ لَهُمُ ٱلشَّیۡطَـٰنُ أَعۡمَـٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡیَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّی جَارࣱ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَاۤءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَیۡهِ وَقَالَ إِنِّی بَرِیۤءࣱ مِّنكُمۡ إِنِّیۤ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّیۤ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِیدُ ٱلۡعِقَابِ
اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
إِذۡ یَقُولُ ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ وَٱلَّذِینَ فِی قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـٰۤؤُلَاۤءِ دِینُهُمۡۗ وَمَن یَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِیزٌ حَكِیمࣱ
اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے
وَلَوۡ تَرَىٰۤ إِذۡ یَتَوَفَّى ٱلَّذِینَ كَفَرُوا۟ ٱلۡمَلَـٰۤىِٕكَةُ یَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَـٰرَهُمۡ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلۡحَرِیقِ
اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو